حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 14

حقائق الفرقان ۱۴ سُوْرَةُ نُوح وقت ماں کہہ کر پکارتے ہیں۔پھر بڑے ہو کر باپ کو خیر خواہ سمجھتے ہیں۔پھر جوانی میں دوست پیدا ہو جاتے ہیں اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔یہ انسان کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔اور ان کے سوا اور بھی خیر خواہ ہیں۔لیکن یہ سب خیر خواہ غلطی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ان سب سے اعلیٰ مخلوق کا خیر خواہ انبیاء کا گروہ ہے ( علیہم الصلوۃ والسلام ) جو کبھی غلطی نہیں کرتے۔اور ان کو مخلوق کے ساتھ بہت محبت ہوتی ہے۔تعجب ہے کہ لوگ انبیاء کی باتوں کو نہیں مانتے۔ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام در ددل کے ساتھ اپنے رب کے حضور میں شکوہ کرتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا پر وہ میری بات نہیں مانتی۔اس زمانہ میں لوگ بہ سبب امن عامہ کے عیش و عشرت کی غفلت میں گرے ہوئے تھے۔زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی تھی اور اس کے دل کے تصور اور خیال روز بروز صرف بدی ہوتے تھے۔تب خدا نے چاہا کہ انسان کو اس زمین میں سے مٹاڈالے۔پر خدا نے ایک دفعہ پھر ان پر رحم کیا۔اور اپنے بندے نوح کو جو صادق اور کامل تھا اور خدا کی راہ پر چلتا تھا۔اور اس واسطے اس پر خدا کی مہربانی کی نظر تھی۔ان لوگوں کی طرف بھیجا کہ انہیں آنے والے عذاب سے ڈرائے۔حضرت نوح نے خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی مگر قوم نے نہ مانا۔اور مور دعذاب الہی ہوئی۔(ضمیمه اخبار بدر جلد قادیان ۱۱ نمبر ۱۶ مورخه ۱۸ جنوری ۱۹۱۲ء صفحه ۲۸۹) ۲۴- وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ الهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَذَا وَ لَا سُوَاعًا ۚ وَ لَا يَغُونَ وَ يَعُوقَ وَنَسُرًا - ترجمہ۔اور بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے معبودں کو اور کبھی نہ چھوڑنا ؤ اور نہ سُواع کو اور نہ يَغُوث کو اور نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔تفسیر۔بیان کے بتوں کے نام ہیں۔ا۔وڈا۔محبت اور خواہش کا دیوتا۔جس کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے ارادے سے ایجاد عالم کا باعث ہوا۔اس کو مرد کی صورت پر بنایا جاتا ہے۔ہندوؤں میں اس کے بالمقابل بر ہما ہے۔