حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 228 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 228

حقائق الفرقان ۲۲۸ سُوْرَةُ الْفَجْرِ لے فَاكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ - فَصَبَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوطَ عَذَاب - (الفجر : ۱۳ ، ۱۴) ۱۳، مجھ کو یقین ہے کہ جہاں بڑے بڑے لوگ ہیں وہاں بڑے بڑے سامان بہت سے مل سکتے ہیں۔ان مکانوں کو چھوڑ کر جب کوئی یہاں آتا ہے تو وہ ہم کو بطور نمونہ کے دیکھتا ہے۔ابھی ایک شخص بنگالہ سے یہاں آئے تھے۔اتفاق سے ان کو مہمان خانہ میں کوئی داڑھی منڈا موچھڑیالہ شخص مل گیا۔انہوں نے مجھ سے شکایت کی کہ ہم تو خیال کرتے تھے کہ قادیان میں فرشتے ہی رہتے ہیں۔یہاں تو ایسے لوگ بھی ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص بھی آ گیا۔جس کی شکل سے مجھ کو بھی شبہ ہوا کہ یہ مسلمان ہے یا ہندو۔میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیسے آئے؟ کہنے لگا کہ میں بیمار ہوں علاج کرانے کے لئے یہاں آیا ہوں۔الغرض جب لوگ یہاں آتے ہیں تو تم کو بہت دیکھتے ہیں۔اب تم کو سوچنا چاہیے کہ اگر تم اصلاح کے لئے آئے ہو تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں امن اور اصلاح ہو۔وہاں فساد اور شرارت بڑی بات ہے۔جہاں کوئی مصلح آیا ہو۔وہاں فساد کیسا ؟ اب تم ہی بتاؤ کہ اگر تم یہاں فساد کرو تو فَصَبٌ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابِ کے سب سے بڑھ کر مستحق ہو یا نہیں۔میں تمہارے سامنے یہ بطور اپیل کے پیش کرتا ہوں جناب الہبی مکہ والوں کو فرماتے ہیں کہ تم ہی انصاف کرو۔هَلْ فِي ذلِكَ قَسَمٌ لِذِي حِجْرٍ - کیا کوئی عقل مند ہے جو ہماری بات کو سمجھ جائے اور تہ کو پہنچ جائے۔باہر تم گند کرو تو اس قدر نقصان نہیں پہنچا سکتے۔جس قدر یہاں پہنچا سکتے ہو۔جناب الہی فرماتے ہیں۔فَاقَا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَليهُ رَبُّهُ فَاكْرَمَهُ وَنَعْمَةُ فَيَقُولُ رَبّى أَكْرَمَن - - (الفجر : ۱۶) بعض کو آسودگی سے ابتلا میں ڈالتے ہیں۔وہ جناب النبی کے فضل کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں۔ربی اگر مَن۔جب تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں رَبِّي آھانی کہ ہماری بڑی اہانت ہوئی۔میں تم کو اور اپنے آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کسی کو یہ تعلیم نا پسند ہے اور یہاں تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو لے اور کثرت سے شہروں میں فساد پھیلایا تھا۔پھر لگا یا اللہ نے ان پر عذاب کا کوڑا۔سے قادیان۔مرتب پس جب انسان کو اس کا رب آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے خوب عزت دی۔