حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 227 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 227

حقائق الفرقان ۲۲۷ سُوْرَةُ الْفَجْرِ یہاں تک کہ جن ایام میں مکہ معظمہ میں آمد و رفت ہوتی تھی۔کیا مطلب ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور رجب میں وہ اگر اپنے باپ کے قاتل پر بھی موقع پاتے تھے۔تو اس کو بھی قتل نہیں کرتے تھے۔تم جانتے ہو کہ جب شکاری آدمی کے سامنے شکار آجاتا ہے۔تو اس کے ہوش وحواس اڑ جاتے ہیں۔لیکن عرب میں جب حدود حرم کے اندر شکار آجاتا تھا تو اس کو نہیں چھیڑتے تھے۔پھر دس راتیں حج کے دنوں کی بڑے چین و امن کا زمانہ ہوتا تھا۔ان دنوں میں بد معاش لوگ بھی فساد اور شرارتیں نہیں کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو یاد دلاتا ہے کہ ان امن کے دنوں میں تم اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی باوجود قابو یافتہ ہونے کے قتل نہیں کرتے تھے۔تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرو کہ اب تم لوگ اللہ کے رسول کی مخالفت کو ان دنوں میں بھی نہیں چھوڑتے اور کیا تم کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو عرب سے باہر آئے ہیں مثلاً مصر کے ملک میں فرعون تھا اس کے پاس رسول آیا یعنی فرعون کو سزادی جو خدا کے رسول موسی کے مقابلہ میں تھا۔پھر ہم نے عاد اور ثمود کی اقوام کو سزائیں دیں جو ہمارے رسولوں کے مقابل کھڑی ہو ئیں اور تم تو مکہ میں اور پھر حج کے دنوں میں بھی شرارت کرتے ہو اور نہیں رکھتے تو تم ہی انصاف سے کہو کہ آیا سب سے زیادہ سزا کے مستحق ہو کہ نہیں؟ نیکی ہو یا بدی بلحاظ زمان و مکان کے اس میں فرق آجاتا ہے۔ایک شخص کا گرمی کے موسم میں کسی کو جنگل ریگستان میں ایک گلاس پانی کا دینا جبکہ وہ شدت پیاس سے دم بہ لب ہو چکا ہو ایک شان رکھتا ہے مگر بارش کے دنوں میں دریا کے کنارے پر کسی کو پانی کا ایک گلاس دینا وہ شان نہیں رکھتا۔یہ بات میں نے تم کو کیوں کہی ؟ تم میں کوئی رسول کریم کے صحابہ مکہ میں تو بیٹھے ہوئے ہیں ہی نہیں۔میں تم کو سمجھانے کے لئے کھڑا ہو گیا۔یادرکھو جو امن اور اصلاح کے زمانہ میں فساد اور شرارت کرتا ہے وہ سزا کا بہت ہی بڑا حق ہے۔ٹامستحق میرا یہ اعتقاد ہے۔جہاں کوئی پاک تعلیم لاتا ہے۔جہاں لوگ سفر کر کے جاتے ہیں۔وہاں مکانوں کی تنگی ، کھانا سادہ ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ایسی مصیبتیں جولوگ اٹھا کر یہاں آئے ہیں۔اور وہ دن رات قرآن سیکھتے ہیں۔یہاں اگر کوئی فساد کرے تو وہ اصلاح کا کیسا خطرناک دشمن ہے۔