حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 226 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 226

حقائق الفرقان ۲۲۶ سُوْرَةُ الْفَجْرِ کہ تم اس مبارک اور محترم شہر میں ایسے عظیم الشان رسول کی مخالفت کر رہے ہو۔جو تمام انبیاء علہیم السلام کا سردار اور سرتاج ہے۔اس کا انجام یہ ہوگا کہ تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور یہ کیسا عظیم الشان اعجاز ہے کہ آنحضرت کے دشمنوں کا نام ونشان مٹا دیا گیا اور مکہ معظمہ میں ابدالآباد کے لئے آنحضرت کا کوئی دشمن نہ رہنے دیا۔مکی زندگی جن مصائب اور مشکلات سے بھری ہوئی ہے۔وہ تاریخ اسلام کا ایک زہرہ شگاف باب ہے۔پھر انہی ایام میں یہ پر شوکت پیشگوئیاں اور جلالی تہذ یاں مخالفین رسالت کو سنائی جاتی ہیں۔جل جلالہ جیسا کہ الفجر کے متعلق کہا گیا ہے کہ ثمود کی قوم کے عذاب کے وقت کی طرف اس میں اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ جیسے وہ فجر مامورین و مرسلین کی حقانیت پر مہر کر نیوالی تھی اسی طرح و کیالٍ عَشْیر سے ان راتوں کی طرف اشارہ ہے جن میں فرعونیوں کا خاتمہ ہوا اور بنی اسرائیل نے ان کے ہاتھوں سے نجات پائی۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۵٬۳۲۴) قرآن کریم میں کوئی بہت بڑا عظیم الشان مضمون جیسے اللہ جل شانہ کی ہستی کا ثبوت ، اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی ، اللہ تعالیٰ کے افعال، اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، یہ چار باتیں جناب الہی کے متعلق ہوتی ہیں۔ملائکہ ، اللہ تعالیٰ کے اسماء اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں ، ان کو روکنا ، جزا وسزا، کتب الہی پر ایمان، یہ بڑے مسائل ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں آتے ہیں۔ان دلائل میں سے سب سے عظیم الشان بات جو اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کریمہ میں فرمائی ہے۔ہر ملک میں کوئی نہ کوئی قوم بڑی سخت ہوتی ہے۔جس شہر میں میرا پرانا گھر تھا۔وہاں پر ایک سید کی زیارت ہے۔اس شہر میں ان کی قبر پر جا کر قسم کھانا بڑی قسم ہے۔اسی طرح بعض زمیندار جھوٹی قسم کھا لیتے ہیں۔مگر دودھ پوت کی قسم نہیں کھاتے۔اسی طرح ہندو گائے کی دُم پکڑ کر قسم نہیں کھا سکتے۔غرضیکہ ہر قوم اپنے ثبوت کے لئے کسی نہ کسی عظیم الشان قسم کو جڑھ بنائے بیٹھی ہے۔عرب کے لوگ ہر ایک جرم کا ارتکاب کر لیتے تھے۔لیکن مکہ معظمہ کی تعظیم ان کے رگ وریشہ میں بسی ہوئی تھی۔