حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 225
حقائق الفرقان ۲۲۵ سُوْرَةُ الْفَجْرِ دشمنوں کے مقابلہ کے وقت دعا ہی کا ہوتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے لئے بعض اوقات مخصوصہ و مقامات متبرکه خاص مناسبت رکھتے ہیں۔اس لئے ایک شق ان میں سے جو اوقات مخصوصہ ومتبرکہ کی ہے۔ذکر کی جاتی ہے۔سب سے زیادہ متبرک ایام ولیالی عشرہ اواخر رمضان المبارک ہیں۔ا۔صبح کو بیسویں کی اعتکاف میں داخل ہوتے ہیں اور یہی مسنون ہے۔اگر چاند تیسویں کا ہو تو دس راتوں میں اعتکاف ختم ہو جاتا ہے۔اور اگر چاند انتیس کا ہو تو دنوں کی تعداد جفت اور راتیں وتر ہو جاتی ہیں۔بعد ختم عشرہ آخرہ رمضان المبارک کے شوال کی پہلی رات لیلتہ الجائزہ کہلاتی ہے کہ اس رات میں تمامی ماہِ رمضان المبارک کا اجر و ثواب اللہ تبارک و تعالیٰ بندوں کو عطا فرماتے ہیں۔پہلی شب شوال کی بہ اعتبار اس کے کہ سارے رمضان شریف کا ثواب اس میں مرحمت کیا جاتا ہے۔حدیث شریف میں نہایت بابرکت رات بیان ہوئی جو وَاليْلِ إِذَا یسر کی مصداق ہے۔صبح کے اوقات کی نسبت خصوصیت سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ اللَّهُمَّ بَارِكَ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا أَوْ كَمَا قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اس کے علاوہ ان پانچ باتوں کی توجیہات اور بھی بیان ہوئی ہیں ماحصل ان سب کا یہی ہے کہ ان سے امکنہ مراد ہوں یا از منہ۔دعا کے لئے یہ بڑے زبردست ہتھیار ہیں۔جنہوں نے دشمنوں کی بڑی بڑی قوموں کو ہلاک کر دیا۔وَالَّيْلِ إِذَا یسر سے شب قدر بھی مراد ہو سکتی ہے کیونکہ بخلاف اور راتوں کے یہ رات ساری کی ساری با برکت ہوتی ہے۔ان دس راتوں کے نظارے کو حشر کے نظارے سے بھی تشبیہ دی اور اس سے یہ بتایا ہے کہ کس طرح پر مختلف حصص عالم سے لوگ اس بیت الحرام کی طرف چلے آتے ہیں۔اور جولوگ مکہ اور عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔وہ ہر طرف ان قوموں کے آثار اور نشانات کو مشاہدہ کرتے ہیں۔جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کا انکار کیا اور آخر عذاب الہی میں گرفتار ہوئے۔جیسا کہ آگے کھول کر بیان کیا ہے۔الم ترَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادِ آیت نمبرے سے نمبر ۱۵ تک اس میں اہلِ مکہ کو یہی سمجھانا مقصود ہے لے اے اللہ تو میری امت کے لئے اس کے صبح کے اوقات میں برکت رکھ دے۔