حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 221
حقائق الفرقان ۲۲۱ سُوْرَةُ الْغَاشِيَة یہ ظاہر امر ہے کہ مکہ میں یہ آیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہو رہی ہیں۔اور اسی حالت میں اہلِ مکہ کو بتایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کو آج تم ایک بے کس اور بے بس انسان یقین کرتے ہو اور فی الواقع آج وہ ایسا ہی ہے بھی۔کیونکہ کوئی جتھا اور جمیعت اس کے ساتھ نہیں اور تم سمجھتے ہو کہ بہت جلد اسے نابود کر دو گے۔مگر یا درکھو کہ ایک وقت آتا ہے کہ اس کی قوت اور شوکت کا دائرہ وسیع ہوگا اور تم سب اس کے زیر اقتدار ہو گے۔اس وقت مخالفین عجیب گھبراہٹ کی حالت میں ہوں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔ایک آگ میں وہ داخل کئے جائیں گے۔آگ سے مراد نار الحرب بھی ہوتی ہے۔اور جہنم بھی۔پس دنیا کی جنگ میں ان کی ناکامی اور نامرادی نارِ جہنم کے لئے دلیل ہے۔وہ اس مقابلہ میں ہار جائیں گے۔ان کو کھولتا ہوا پانی اور خاردار جھاڑیاں جن کو چھتر تھوہر کہتے ہیں۔کھانے کو ملیں گی۔اس کا ثبوت دنیا میں یوں ملتا ہے کہ آتشک کے مریض کے لئے تھوہر کے دودھ میں گولیاں بنا کر دی جاتی ہیں اور اوپر سے گرم گرم پانی پلایا جاتا ہے۔غرض دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔اسی طرح پر آخرت میں بھی ہوگا۔رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ - (الفرقان: ۲۲)۔آمین۔ان کے بالمقابل ایک گروہ خوش و خرم ہو گا اور اپنی تدابیر کے پورے ہونے اور مساعی میں خدا کے فضل سے کامیاب ہونے پر شاداں و فرحاں ہو گا۔ان کے لئے باغات عالی مرتبہ ہوں گے۔جن میں لغویات کو دخل نہیں۔اس میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے اور تخت ہوں گے۔کوزے آبخورے قرینہ سے رکھے ہوں گے قالین اور تکیے لگے اور بچھے ہوئے۔غرض یہ تمام انعامات اس دنیا میں صحابہؓ کو ملے اور انہوں نے ایسے باغات حاصل کئے۔ان تمام امور پر پہلے مختلف جگہ ہم نے بحث کر دی ہے۔اب زیادہ تفصیل اور توضیح کی حاجت نہیں۔المختصر مکہ معظمہ میں منکرین کو عذاب کی اور موافقین و متبعین کو کامیابی اور جنات عالیہ کی خوشخبری برنگ پیشگوئی دی جاتی ہے۔اور بتایا ہے کہ۔قیامت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔دنیا میں اس طرح پر ہوا۔اور یہ قیامت کا ثبوت ٹھہرا۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخہ یکم اگست ۱۹۱۲ صفحه ۳۲۴٬۳۲۳) ل اے ہمارے رب ! ہم سے جہنم کا عذاب پھیر دینا۔