حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 220 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 220

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْغَاشِيَةِ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامُ الَّا مِنْ ضَرِيع - ترجمہ۔کوئی کھانا اُن کو نصیب نہ ہو گا مگر ناگ پھنی۔تفسیر۔ضریع ایک قسم کی گھانس ہے۔جب تک پانی کی وجہ سے ہری رہتی ہے شہرق کہلاتی ہے مگر جب سوکھ جاتی ہے تو اس کو ضریع کہتے ہیں۔کانٹے دار اور بد بودار تلخ ہوتی ہے۔تضرع اسی سے مشتق ہے۔سورۃ المومنون رکوع چہارم (پارہ نمبر ۱۸) میں فرمایا ہے کہ قحط شدید میں ضریع کو کھا کر بھی تضرع نہیں کیا۔كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالٰی وَ لَقَدْ أَخَذْ لَهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ (المومنون: ۷۷) اس آیت شریف کا نزول مفسرین نے قحط شدید کے وقوع کے بارے ہی میں لکھا ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں ہوا تھا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه یکم اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۳) - لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِنْ جُوع - ترجمہ۔جو نہ موٹا کرے بدن کو اور نہ بھوک دفع کرے۔لو تفسیر۔قحط کے مارے ہؤوں میں موٹا پا کہاں باقی رہتا ہے۔جسم ایک پنجرے کی طرح ڈراؤنی (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه یکم اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۲۳) شکل کا ہو جاتا ہے۔۹ - وُجُوهٌ يَوْمَنِ نَاعِمَةٌ - و۔ترجمہ۔کتنے چہرے اُس روز تر و تازہ ہوں گے۔تفسیر - آیت نمبر ۸ سے ۱۶ تک مومنوں کے خوش و خرم اور متنعم رہنے کا بیان ہے۔جن لوگوں کے شامل حال خداوند کریم کا فضل ہوتا ہے۔ان کے لئے ضرر کے سامان بھی ضرر رساں نہیں ہوتے۔ہمارے ملک میں بڑے بڑے شدید قحط پڑے مگر جو فاتح قو میں تھیں۔قحط میں بھی وہ متنعم ہی رہیں۔ے منهم بکوه و دشت و بیابان غریب نیست هر جا که رفت خیمه زد و بارگاه ساخت لے اور بے شک ہم نے ان کو پکڑ لیا عذاب میں تو وہ جھکتے نہیں اپنے رب کے سامنے اور نہ عاجزی ہی کرتے ہیں۔جس شخص پر خدا کا انعام ہوتا ہے وہ پہاڑوں جنگلوں اور صحراؤں میں بھی مسافر نہیں ہوتا وہ جہاں بھی جاتا ہے خیمہ لگاتا ہے اور بارگاہ بنالیتا ہے۔