حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 212 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 212

حقائق الفرقان ۲۱۲ سُورَةُ الْأَعْلَى افعال ، اللہ کی کتاب ، اللہ کے رسول ، اللہ کے رسول کے نواب و خلفاء کی پاکیزگی بیان کرے۔ اور ان پر جو اعتراض ہوتے ہیں۔ انہیں بقدرا اپنی طاقت کے سلامت روی وامن پسندی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش کریں۔ یہ مت گمان کرو کہ ہم ادنی ہیں۔ وہ طاقت رکھتا ہے کہ تمہیں ادنیٰ سے اعلیٰ بنا دے ۔ چنانچہ وہ فرماتا ہے ۔ خَلَقَ فَسَتَوى - وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى - الاعلى: علی : ۴۳) جو ان پڑھ ہیں ۔ انہیں کم از کم یہی چاہیے کہ وہ اپنے چال و چلن سے خدا کی تنزیہہ کریں یعنی اپنے طرز عمل زندگی سے دکھائیں کہ قدوس خدا کے بندے ، پاک کتاب کے ماننے والے، پاک رسول کے متبع اور اس کے خلفاء اور پھر خصوصا اس عظیم الشان مجدد کے پیرو ایسے پاک ہوتے ہیں۔ ( بدر جلد ۹ نمبر ۴۹٬۴۸ مورخه ۱۳ را کتوبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۹۰۸) ہر اس شخص پر جو قرآن پر ایمان لایا۔ جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا۔ جو اللہ پر ایمان لایا۔ اس کی کتابوں پر ایمان لایا۔ فرض ہے کہ وہ کوشش کرے کہ خدا تعالیٰ کے کسی نام پر کوئی آدمی اعتراض نہ کرنے پائے۔ اگر کرے تو اس کا ذب کرے۔ اس لئے ارشاد ہوتا ہے۔ سَبِّحُ ۔ جناب الہی کی تنزیہ کر، اس کی خوبیاں ، اس کے محامد بیان کر ۔ میں نے بعض نادانوں کو دیکھا ہے۔ جب جناب الہی ، اپنی کامل حکمت و کمالیت سے اس کے قصور کے بدلے سزا دیتے ہیں۔ اور وہ سزا اس کی شامت اعمال سے ہی ہوتی ہے۔ جیسے فرمایا وَ ما أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ - () (الشوری: ۳۱) تو وہ شکایت کرنے لگ جاتے ہیں مثلاً کسی کا کوئی پیارے سے پیار ا مر جائے تو اس ارحم الراحمین کو ظالم کہتے ہیں ۔ بارش کم ہو تو زمیندار سخت لفظ بک دیتے ہیں۔ اور اگر بارش زیادہ ہو تو تب بھی خدا تعالیٰ کی حکمتوں کو نہ سمجھتے ہوئے برا بھلا کہتے ہیں۔ اس لئے ہر آدمی پر حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدیس و تسبیح کرے۔ آپ کے کسی اسم پر ے جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک ٹھاک کر دیا۔ اور جس نے اندازہ کیا پھر راستہ دکھا دیا۔ ہے اور تم پر جو کچھ مصیبت پڑتی ہے وہ تمہاری ہی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہے۔