حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 211
حقائق الفرقان ۲۱۱ سُوْرَةُ الأعلى پھر اس سے آگے اللہ توفیق دے تو اللہ کے اسماء پر اللہ کے صفات و افعال پر ، اللہ کی کتاب پر ، اللہ کے رسول پر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں اور عیب لگاتے ہیں ، ان کو دُور کرو اور ان کا پاک ہونا بیان کرو۔ہمارے ملک میں اس قسم کے اعتراضوں کی آزادی حضرت جلال الدین اکبر بادشاہ کے عہد میں شروع ہوئی ہے کیونکہ اس کے دربار میں وسعت خیالات والے لوگ پیدا ہو گئے۔اس آزادی سے لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور مطاعن کا دروازہ کھول دیا۔ان اعتراضوں کو دور کر نے کے لئے ہمارے بزرگوں نے بہت کوشش کی ہے۔چنانچہ شیخ المشائخ حضرت شیخ احمد سر ہندی (رحمت اللہ علیہ ) نے بھی بہت کوشش کی ہے۔جلال الدین اکبر نے جب صدر جہاں کو لکھا کہ چار عالم بھیجیں جو ہمارے سامنے ان اعتراضوں کے جواب دیا کریں۔تو یہ بات حضرت مجدد صاحب کے کان میں بھی پہنچی۔انہوں نے صدر کو خط لکھا کہ آپ مہربانی سے کوشش کریں کہ بادشاہ کے صرف ایک ہی عالم جائے۔چار نہ ہوں۔خواہ کسی مذہب کا ہو۔مگر ہو ایک ہی۔کیونکہ اگر چار جائیں گے تو ہر ایک چاہے گا کہ میں بادشاہ کا قرب حاصل کروں اور باقی تین کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا۔اگر چاروں گئے تو بجائے اس کے کہ دین کا تذکرہ ہو ایک دوسرے کو رد کر کے چاروں ذلیل ہو جاویں گے۔اور یہ لوگ اپنی بات کی بیچ میں بادشاہ کو ملحد کر دیں گے۔یہ تو اس وقت کا ذکر ہے۔جب اسلام کی سلطنت تھی۔اسلام کے متوالے دنیا میں موجود تھے۔اس وقت کا بیج بو یا ہوا اب تین سو برس کے بعد ایک درخت بن گیا ہے۔کیسے دکھ کا زمانہ ہے کہ نبی کریم کے سوانگ ڈراموں میں بنائے جاتے ہیں۔عجیب عجیب رنگوں میں لوگ دھوکہ دیتے ہیں۔جس سے متاثر ہو کر بعض لڑکوں نے غنیمت کی آیت پر لکھ دیا۔محمد لٹیرا تھا۔اگر چہ اس کا جواب مجھے دیا گیا کہ نقل اعتراض تھا مگر یہ داغ مٹتا نہیں۔اور میں سربان القضاء کا مسئلہ خوب جانتا ہوں۔اسی کے ماتحت اس کو لا کر اس کا ذکر کرتا ہوں۔پس میری سمجھ میں یہ وقت ہے کہ جہاں تک تم میں کسی سے ہو سکے۔اللہ کے اسماء ، صفات ،