حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 207
حقائق الفرقان ۲۰۷ سُوْرَةُ الأعلى ان دو مقام کے علاوہ قرآن شریف میں کثرت سے ان، قد کے معنوں میں آیا ہے۔افَتَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِكرَ صَفْعًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُسْرِفِينَ (الزخرف:۶) سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی سنے یا نہ سنے۔وعظ ونصیحت کبھی ترک نہیں کرنا چاہیے۔گوش زدہ اثر لے دارد۔کے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۱۲ ، صفحه ۳۲۲) ۱۵ تا ۱۷ - قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَى - وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى بَلْ تُؤْثِرُونَ الحيوة الدُّنْيَا - ترجمہ۔تحقیق کہ وہی مراد کو پہنچ گیا جس نے سنوارا اور پاک بنا۔اور اپنے رب کا پاک نام لیتارہا اور نمازیں ادا کرتا رہا۔کچھ نہیں تم تو دنیوی زندگی کو مقدم کرتے ہو۔تفسیر۔فلاح کے لئے ظاہری و باطنی طہارت پراگندہ خیالات سے دلجمعی ، ذکر ونماز و بالآخر دین کود نیا پر مقدم کرنا۔یہ باتیں ضروری ہیں۔حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ہے۔مصفح قطره باید که تا گوہر شود پیدا آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۵) ایک ڈاکٹر صاحب نے جو ایم۔اے ہیں۔اعتراض کیا کہ موتی تو کیڑے کے لعاب سے پیدا ہوتا ہے۔یہ حال کی تحقیقات کا مشاہدہ ہے مگر جب ان کو توجہ دلائی گئی کہ سیپ میں کیڑا کس چیز سے پیدا ہوتا ہے۔تو چونکہ ڈاکٹر تھے۔خاموش ہو گئے۔ایک اور الہام حضرت صاحب کا ہے۔جس کو تزکیۂ نفس اور ذکر سے تعلق ہے وہ یہ ہے۔کو إنَّ هَذَا الْقُرْآنَ عُرِضَ عَلَى أَقْوَامٍ فَمَا دَخَلَ فِيهِمْ وَمَا دَخَلُوْا فِيْهِ إِلَّا قَوْمٌ مُّنْقَطِعُونَ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۲) سَبْحِ اسْمَ رَبَّكَ الْأَعْلَى آدمی کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔اور اس کے لئے دو قسم کی چیزیں ضروری ہیں۔ایک جسم جو ہمیں ا کیا ہم تم سے روک لیں گے قرآن کو منہ پھیر کر اس وجہ سے کہ تم لوگ حد سے باہر نکلنے والے ہو۔۲؎ کان پڑی بات اثر رکھتی ہے۔۳ پاکیزہ قطرہ ہونا ضروری ہے تا کہ وہ گوہر بن سکے۔ہے یقینا یہ قرآن قوموں پر پیش کیا گیا مگر ان پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا اور انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ہاں اس قوم نے اسے قبول کر لیا جو دنیا سے منقطع تھے۔