حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 206

حقائق الفرقان ۲۰۶ سُوْرَةُ الأعلى ہے جو ظاہر اور مخفی تمام امور کا پورا علیم وخبیر ہے۔پس یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کی دلیل ہے۔اس کے بعد ایک اور دلیل برنگ پیشگوئی فرمائی کہ وَنُيَشِرُكَ لِلْيُسْری یعنی تیرے ہر ایک کام میں سہولتیں اور آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔مکی زندگی جس عسر اور تنگی کی زندگی تھی وہ تاریخی اوراق سے عیاں ہے لیکن بعد میں آپ کے لئے جس قدر سہولتیں پیدا ہوئی ہیں۔وہ بھی ایک ظاہر امر ہے۔ہر کام میں سہولت اور آسانی پیدا ہوگئی اور اس طرح پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔اس کے بعد پھر ایک پیشگوئی فرمائی کہ آپ کا کام تذکیر ہے۔آپ اس نصیحت کولوگوں تک پہنچاتے جائیں۔یہ خالی از فائدہ نہ ہوگی۔ضرور اپنا مفید نتیجہ پیدا کرے گی۔۹ - وَنُيَسِرُكَ لِليسرى - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخه ۴ جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۳۲۲٬۳۲۱) ترجمہ اور تجھ پر آرام کا راستہ آسان کر دیں گے۔تفسیر کی زندگی آپ کی جس قسم کی عسرت کی تھی۔اس کو پیش نظر رکھ کر آپ کے عروج اور کمال تک نظر کی جاوے۔تو آیت کا مفہوم خوب سمجھ میں آجاتا ہے۔علاوہ اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو دین لائے ہیں۔اس کی تعریف آپ نے یوں فرمائی ہے۔مَا بُعِثْتُ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ وَلكِن بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْعِيَّةِ یعنی افراط و تفریط اور رہبانیت سے منز ہ سہل اور آسان دین کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے۔سفر میں قصر ہے۔عذر ہو تو تیم ہے مسجد نہ ہو تو سب جگہ مسجد ہی مسجد ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ / جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۳۲۲) 1 - فَذَكِرْ اِن نَفَعَتِ الذِّكرى - ترجمہ۔تو تو سمجھاوے، بے شک سمجھانا یقینا فائدہ ہی دیتا ہے۔تفسیر۔ان بجھے فذ ہے۔جسے فرمایا۔سُبحن رہنا إِن كَانَ وَيْد رَبَّنَا لَمَفْعُولا (بنی اسر حیل ۱۹) وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلِلٍ مُّبِينٍ ( آل عمران : ۱۲۵) ان کے معنے ہر جگہ شرطیہ نہیں ہوتے۔ا پاک ہے ہمارا رب بے شک ہمارے رب کا وعدہ تو ہوا ہوا یا ہے۔سے یقیناوہ اس سے پہلے صریح جہالت میں تھے۔