حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 205
حقائق الفرقان ۲۰۵ سُورَةُ الأعلى گے۔تو سنو ! اس کے متعلق ہم پیشگوئی کرتے ہیں۔سَنُقْرِئُكَ فَلا تنسی۔ہم تجھ کو پڑھا دیں گے اور تو کبھی نہیں بھولے گا۔اب جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ اور بشارت دی تھی کہ تو ہمارے پڑھائے ہوئے علوم کبھی نہیں بھولے گا۔اس وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن مجید پڑھایا اور تمام اسرار وحقائق و معارف و دقائق آپ پر منکشف کئے۔علوم اولین و آخرین عطا فرمائے۔اور اس پر بھی رَبّ زِدْنِي عِلْمًا۔(طه: ۱۱۵) کی دعا سکھائی۔اس آیت میں یہ بھی بتایا ہے کہ بھولے گا نہیں۔مگر الا مَا شَاء اللہ بھی اس کے ساتھ ہے۔اب غور طلب بات یہ ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔سو یا د رکھنا چاہیے کہ ضروریات دین اور کلام ربانی جس کا دنیا کو پہنچانا مقصود ہے۔وہ تو کبھی آپ کو بھول ہی نہیں سکتا اور نہ ایسا ہوسکتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہو تو پھر امان ہی اٹھ جاوے۔قرآن مجید خود اس کی تشریح دوسری جگہ کرتا ہے۔ایک جگہ فرماتا ہے۔لبِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا اليك - (بنی اسرائیل: ۸۷) یعنی اگر ہم چاہتے تو جو کچھ تیری طرف وحی کیا ہے۔اسے لے جاتے۔مگر ایسا وقوع میں نہیں آیا۔اس لئے الا مَا شَاءَ اللهُ یا لَبِن شئنا سے یہ مراد نہیں ہوسکتا کہ ایسا وقوع میں بھی آیا۔اور اگر آیا بھی تو دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوئی قرآن کریم میں اس کا پتہ ہے۔اس لئے ایک جگہ فرمایا۔فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ التِهِ (الحج: ۵۳) یعنی شیطانی القاء کواللہ تعالیٰ مٹادیتا ہے۔اور اپنی آیات کو مضبوط کرتا ہے۔اور ایک اور جگہ فرمایا۔يَمْحُ اللهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقِّ بكلمته (الشوری: ۲۵) اللہ تعالیٰ باطل کو محو کر دیتا ہے اور اپنے کلماتِ حق کو حق ثابت کرتا ہے۔پس معلوم ہوا الا مَا شَاءَ اللہ سے اگر کوئی مراد ہے تو وہ باطل اور ارادہ و تدابیر شیطانی ہیں۔جو آپ کی مخالفت کے لئے کی جاتی تھیں۔یہ بھی گو یا عظیم الشان پیشگوئی ہے۔اس کو واقعات سے ملا کر دیکھو کہ کس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پڑھایا گیا وہ قائم رہا۔اور دنیا اس کو نہیں بھول سکتی۔قرآن کریم کی وحی آج تک بھی اسی قوت و شوکت کے ساتھ زندہ اور محفوظ ہے۔پھر اس کو مؤ کد کرنے کے لئے فرمایا انه يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفى (الاعلى: ۸) یعنی یہ اس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد لے اے میرے رب ! مجھے علم اور زیادہ دے۔