حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 204 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 204

حقائق الفرقان ۲۰۴ سُورَةُ الْأَعْلَى ہیں ۔ انہیں کا وجود ان کے کھیت کے لئے کھاد بن جاتا ہے۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۱) ، - سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْشَى - إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَى - ترجمہ ۔ ہم ضرور ہی تجھ کو قریب ہی ایسا پڑھائیں گے کہ تو پھر بھولے گا ہی نہیں ۔ مگر جو اللہ چاہے بے شک وہ ظاہر بھی جانتا ہے اور چھپا ہوا بھی ۔ تفسیر حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرآن شریف جسے یاد ہے۔ وہ اس کو پڑھتا پڑھا تا ر ہے۔ اگر پڑھنے میں ڈھا ھنے میں ڈھیل دے دی گئی تو وہ کھلے ہوئے اونٹ سے بھ اسے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ سینوں سے نکل جاتا ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام سے ہر سال ایک بار دور کیا کرتے تھے سال وفات آپ نے دو بار دور کیا ”س“ کے معنے ضرور بالضرور کے ہیں۔ اِلَّا مَا شَاءَ اللہ کے تحت میں موجود قرآن شریف کے علاوہ جس قدر مختلف قراتیں عرب کے لب ولہجہ کی وجہ سے تھیں سب نَسيَّا مَنْسِيًّا ہو گئیں ۔ جو زیادہ تر مشہور قرآت تھی وہی متلور ہی ۔ قرآن شریف کے جمع کے متعلق صحابہ رضی اللہ عنہ کا فعل اللہ تعالیٰ ہی کا فعل تھا۔ شیعہ معترضین اس پر غور فرماویں۔ ان آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے سلسلہ میں بتایا کہ ہم تجھے پڑھائیں گے اور تو کبھی نہیں بھولے گا۔ جیسے پہلی آیتوں میں بتایا تھا کہ ہر شے کو اللہ تعالیٰ نے ایسے فطرتی قوی دیئے ہیں جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں۔ ایسا ہی اس کو اس کے کمال مطلوبہ تک پہنچنے کا طریق بتایا ہے پس جس باجو د ہستی کو نور نبوت دیا جاتا ہے۔ ضرور ہے کہ اس کے قوامی میں بھی وہی قوت اور طاقت ہو اور اس بار نبوت کے اٹھانے کے لئے وہ ہمہ تن تیار ہو۔ اور ہر قسم کی مشکلات جو اس راہ میں پیش آئیں ان کے برداشت کرنے کا حوصلہ اور استقلال اس میں موجود ہو۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بشارت دی جاتی ہے کہ تیرے آنے کی جو غرض دنیا میں ہے۔ اس کے حسب حال آپ کو قومی دیئے ہیں اور اس کی تکمیل کی جو راہ ہے۔ وہ آپ کو بتادی جاتی ہے۔ اگر یہ سوال ہو کہ یہ علوم جو نبوت کے متعلق ہیں۔ وہ کس طرح پر محفوظ رہیں گے اور آپ کس طرح پڑھ لیں