حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 199
حقائق الفرقان ۱۹۹ سُورَةُ الطَّارِقِ ہے اس لئے بلاء امتحان کے معنے دیتا ہے۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ اس دن جو کچھ خفی در مخفی طور پر کئے تھے وہ بھی ظاہر ہو جائیں گے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۱) ۱۲ - وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۔ ترجمہ۔ اور قسم ہے برسات والے آسمان کی ( کیونکہ زمین سے پانی جا کر واپس آ تا ہے ) ۔ تفسیر سماء - بادل - رجع ۔ بارش ۔ چونکہ بخارات سمندروں سے اور زمین سے اوپر چڑھ کر بادلوں کی شکل میں مینہ بن کر واپس زمین ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اس لئے بادلوں کا نام سماء اور بارش کا نام رجع ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخہ ۴ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۱) جس طرح زمین کا پانی آسمان کے پانی پر موقوف ہے اسی طرح عقلی چشمے الہام الہی کے تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۸۷-۴۸۸) محتاج ہیں ۔ ۱۳ - وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْع - ترجمہ اور زمین کی قسم جو بہت پھٹ جاتی ہے ( بسبب جھاڑ اور روئید گیوں اور دوسرے صدمات کے ) ۔ تفسیر - صداع کے معنے پھٹنے کے ہیں ۔ قَالَ اللهُ تَعَالَى يَوْمَينِ يَصَّدَّعُونَ ۔ (الروم: ۴۴) أَن يَتَفَرَّقُوْنَ - صداع کے لفظ سے صرف اسی قدر توجہ دلانا مقصود نہیں ہے کہ زمین کے پھٹنے سے کھیتیں اور درخت پیدا ہوتے ہیں۔ بلکہ آسمانی بارش سے جس طرح زمین سرسبز ہوتی ہے۔ اسی طرح پیغمبر کے آنے سے اور وحی آسمانی سے اہلِ زمین برگ و بار لاتے ہیں ۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں۔ ایں چنیں کس ، چوڑو ، نہد بہ جہاں بر جہاں ، عظمتش گند عیاں چوں بیاید ، بهار باز آید ے اس دن لوگ الگ الگ ہو جائیں گے۔ موسم لاله زار باز آید اس طرح کے لوگ اگر دنیا کی طرف توجہ بھی کرتے ہیں تو ان کا مقصد یہی ہوتا کہ دنیا پر اس (خدا) کی عظمت ظاہر کریں۔ جب وہ آتا ہے تو بہار دوبارہ آجاتی ہے اور لالہ زار کا موسم دوبارہ قرار پکڑ جاتا ہے۔