حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 197 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 197

حقائق الفرقان ۱۹۷ سُوْرَةُ الطَارِقِ چلے جاؤ۔عین بین یعنی بیچوں بیچ میں تم کو وہ پمپ یا فوارہ نظر آویگا۔جس میں سے وہ اچھلتا پانی نکلتا ہے جو انسان کی پیدائش کا منبع یا مبداً ہے۔غور کرو،سوچو، ایمان اور انصاف سے کام لو۔کیا مقصود تھا۔کیا مطلب تھا۔کس طرز پر ادا کیا۔اس سے بڑھ کر فصیح اور پاک کلام کوئی دنیا میں ہے۔علم ادب اور عربی سے آگاہی حاصل کرو۔فصحائے عرب عضو تناسل کا نام جب بتقاضائے وقت لازم ہو۔ایسی ہی نہج سے لیا کرتے ہیں۔چنانچہ افصح العرب والنجم ایک حدیث میں فرماتے ہیں۔مَنْ يُضْمَنُ لِى مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنُ لَهُ الْجَنَّةَ یعنی جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کو فواحش اور منکرات سے روکے۔میں اُسے جنت دلواؤں گا الْحَمْدُ لِلهِ عَلى ذلِكَ إِنْ هُوَ إِلَّا مَا الْهَمْنِي بِهِ رَبِّي - فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۱۲۸ تا ۱۳۱) خُلِقَ مِنْ مَاءٍ دَافِقٍ - وافق۔سیال پانی۔یکے بعد دیگرے متواتر گرنے والے قطرے۔دافق، مدفوق کے معنوں میں ہے۔عرب کی بولی میں فاعل مفعول کے معنوں میں کثرت سے بولا جاتا ہے۔جیسے سر كَاتِمُ أَلَى مَكْتُومٌ وَفِي قَوْلِهِ فِي عِيْشَةٍ رَاضِيَةٍ - (الحاقه:۲۲) أَن مَرْضِيَّةٍ - حضرت صاحب کی ایک نظم میں دفق کا لفظ اس طرح آیا ہے ہر که بر دفق حکم مشغول است برسير أجرت است و مقبول است (براہین احمدیہ) دفق کے معنے اس شعر میں حکم کے ساتھ ہی کو دنے ، پھاند نے فوراً چلے جانے کے ہیں۔قرآن شریف کی ما سبق آیات کا ربط آیات ملحق سے یہ ہے کہ کفار جنہوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل اور ایذاء اور مقابلہ کی ٹھان رکھی تھی۔ان کو توجہ دلائی اس طرف کہ غرور تکبر نبی کے مقابلہ میں لے یعنی جو شخص مجھے ضمانت دے اس چیز کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان اور اس چیز کی جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ( یعنی عضو تناسل ) میں اس کے واسطے جنت کا ضامن ہوتا ہوں۔۲۔پس وہ شخص تو بڑے عیش اور پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔سے وہ جو حکم کو فورا ہی بجالانے میں مصروف ہے اس کو اجر مل رہا ہے اور وہ مقبول ہے۔