حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 196
حقائق الفرقان ۱۹۶ سُوْرَةُ الطَّارِقِ ملک عرب میں بھی بالخصوص صلب و اصلاب ہی کا محاورہ دائر وسائر تھا اور یہیں تک ان کے محدود ذہن کی رسائی تھی۔مگر قرآن کریم پر قربان جائیے جو ہمیشہ ہر زمانے میں اپنی راستی اور صداقت دکھانے کو تیار ہے۔اور ابد تک رہے گا۔یہیں سے انسانی کلام اور الہبی کلام کا تفرقہ معلوم ہوتا ہے۔لیجئے اب قرآن کا مطلب سنئے۔حقیقی جواب : فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّا دَافِقٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ والترائب ( الطارق: ۶ تا ۸) کیا معنی کہ نطفہ صلب اور ترائب کے بیچوں بیچ سے آتا ہے۔صلب پیٹھ کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ترائب جمع ہے تریبہ کی۔سینے کی ہڈی۔اب غور کر و نطفہ اور منی شریانی خون سے بنتی ہے۔اور وہ شریان دل سے نکلتا ہے۔اور دل صلب و ترائب کے بیچوں بیچ ہے۔اور طرح پر مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ باری تعالیٰ متکبر انسان کی گردن عجب توڑنے کو اُسے اس کی خلقت جسمانی منبع کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اور چونکہ قرآن کلام الہی ہے اور ہر مجلس میں جوانوں، بوڑھوں، عورتوں میں پڑھا جاتا ہے۔اس لئے ضرور ہے کہ انسانی اصلاح کے ہر قسم کے مطالب و اشارات اعلیٰ درجے کی پاکیزگی اور تہذیب سے ادا کرے۔یہاں دانا سمجھ گئے ہوں گے اور حق شناس تو سمجھتے ہی ہیں کہ گردن کش انسان کو نصیحت کرنا قرآن کریم کو منظور ہے اور کس جگہ کی طرف اشارہ اُسے مقصود ہے۔مگر اللہ اللہ کس خوبی اور لطافت سے اس مضمون کو نبھایا ہے۔یہی اس کتاب کریم کا اصلی اور سچا معجزہ ہے۔معترضوا خواہ مخواہ کی طعنہ زنی کے عاشقو! ترائب سے نیچے نگاہ کرتے جاؤ اور صلب کی طرف لے انسان کو چاہیے۔دھیان کرے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔پیدا کیا گیا ہے اچھلتے پانی سے جو پشت اور سینے کی ہڈیوں کے بیچوں بیچ سے ہو کر نکلتا ہے۔