حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 195
حقائق الفرقان ۱۹۵ سُوْرَةُ الطَّارِقِ بات غلط ہے کہ منی باپ کی پیٹھ اور ماں کے سینے میں ہو۔جیسے قرآن ہے۔“ جواب: ہم کو نہایت تعجب آتا ہے جب ہم پادریوں کو نیچرل فلاسفی وغیرہ سائنٹیفک مصطلحات بولتے سنتے ہیں۔انجیل اور فلاسفی انجیلی تعلیم سخت ہچکچاتی ہے کہ میدان میں نکل کر سائنس سے مقابلہ کرے۔پادری ڈی ڈبلیو تھا مس ( تشریح التثلیت صفحہ ۲۲) معمائے تثلیث کے حل سے عاجز آ کر کیسے بے اختیار کہہ اٹھے ہیں۔" خلقت ( نیچر۔قانونِ الہی ) کے احوال سے استدلال اور عقلی دلائل اس میں چل نہیں سکتے۔اس کا ثبوت ہمہ کلام الہی پر موقوف ہے۔“ نیچرل فلاسفی ! بڑا لفظ بولا۔دوسرے مذاہب پر اعتراض کرنے کے لئے تو بے اختیار یہ لفظ زبان سے نکلے گا۔اندرونِ خانہ تو امید ہے کم ہی استعمال کرنے کا موقع آتا ہو گا۔پادری صاحب! نیچرل فلاسفی کے ڈاکٹر یوشع بن نون کی خاطر سورج کا کھڑا ہونا ، مُردوں کا زندہ کرنا ، مجسم شخص کا آسمان پر چڑھ جانا ، بے باپ کے لڑکا پیدا ہونا کب تسلیم کرتے ہیں۔پہلے انہیں ہی نیچرل فلاسفی کی کسوٹی پر کس لیا ہوتا۔اب حقیقی جواب دینے سے پہلے ایک دو باتوں کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے تا کہ قرآن مجید کی عظمت بخوبی واضح ہو جاوے۔شیخ سعدی ملک ایران میں پیدا ہوئے۔جس ملک کی نسبت مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یونان اور عرب کے علوم مصر سے اور مصر کے علوم ہند یا ایران سے۔اور بہتوں کا خیال ہے کہ ہند کے علوم بھی ایران سے لائے گئے۔پھر اسلام کے ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جبکہ مسلمانوں کے علوم اپنے اوج پر پہنچے ہوئے تھے۔مزید برآں حضرت شیخ نے اپنے علوم کو سیاحت اور تجر بہ زمانہ سے اور بھی چلا دی تھی۔بایں ہمہ شیخ کی تحقیقات کا نتیجہ یہ ہے " ز صلب آوردنطفه در شکم، لے جس پر آجکل کی علمی دنیا ہنسی اڑاتی ہے۔ا صلب سے نطفہ پیٹ میں آتا ہے۔