حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 189
حقائق الفرقان ۱۸۹ سُوْرَةُ الْبُرُوج بے زر، بے زور، بے سامان تھے اور خود آفات و بلیات کا نشانہ بن رہے تھے اور سلامت بچنے کی امید نہیں تھی۔لیکن آپ نے قطعیت اور وثوق کے ساتھ وعدہ فرما یا کہ ضرور ضرور کفار ہلاک ہوں گے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نصرت اور فیروزی عطاء فرمائے گا۔پس ایسا کلام بجز ملک العلام کے اور کسی کا نہیں ہو سکتا اور یہ بات دنیا کے تمام کفار، آریہ برہمو اور عیسائی وغیرہ کے لئے حجت ہے۔(ترجمته القرآن) ۲ تا ۴۔وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوج - وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ - وَشَاهِدٍ وَ مَشْهُودٍ - ترجمہ۔ستاروں والے آسمان کی قسم۔اور وعدہ کے دن کی قسم۔اور نبی کریم کی قسم اور اس کی امت کی۔تفسیر۔بُرُوج۔عربی زبان میں روشن ستاروں کو کہتے ہیں۔برج کے لغوی معنے ظاہر کرنے کے ہیں۔وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوج سے مراد معروف بارہ برج حمل، ثور، جوزاء، سرطان وغیرہ لئے ہیں مگر اسی قدر پر ٹھہر جانے سے آگے مطلب نہیں چلتا اور نہ آیات ماسبق کی آیات مالحق سے کوئی مناسبت پیدا ہوتی ہے۔اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ بالا تفاق یہ سورۃ مکی ہے۔اور اس وقت نازل ہوئی جبکہ نو مسلم صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کفار کا شکار ہورہے تھے۔کوئی گرم تپتے ہوئے پتھروں پر لٹایا جاتا تھا اور کوئی بڑی بڑی بے رحمیوں سے قتل کیا جاتا تھا کہ گویا کہ آسمانی سطوت و جبروت کا مقابلہ زمینی حکومت سے کیا جارہا تھا۔اور یہ جانکاہ چیزیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حضوری میں درپیش تھیں جن سے آپ کو اور نومسلم کمزور اصحاب کو صدمہ عظیم تھا۔اس لئے ان مظالم کے جواب میں جو زمینی حکومت کے ذریعہ سے کی جاتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے بھی تین ملکوتی سطوت اور جبروت کو پیش کیا ہے جو سماء ذات بروج ، یوم موعود ، شاہد و مشہور ہیں۔سماء ذات بروج سے سارا ملکوتی اقتدار مراد ہے۔نہ صرف روشن ستارے یا سرطان، اسد، سنبله میزان، عقرب و غیره بروج معروفہ یا یوں تصور فرما دیں کہ ” دولت برطانیہ" کہنے کو تو ایک لفظ ہے مگر