حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 183 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 183

حقائق الفرقان ۱۸۳ سُوْرَةُ الْإِنْشِقَاقِ کے کیا معنے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ اکثر قرآن کریم میں سماء سے مراد كُل ما في السماء کو لیا ہے جس میں آفتاب اور ماہتاب اور تمام ستارے داخل ہیں۔ ماسوا اس کے ہر ایک جرم لطیف ہو یا کثیف قابل خرق ہے بلکہ لطیف تو بہت زیادہ خرق کو قبول کرتا ہے۔ پھر کیا تعجب ہے کہ آسمانوں کے مادہ میں بحکم رب قدیر و لم رب قدیر و حکیم ایک قسم کا فرق پیدا ہو جائے وَذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِير بالآخر یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے ہر ایک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی غلطی ی ہے۔ اور اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔ سو ہمیں اس فکر میں پڑنا کہ انشقاق اور انفطار آسمانوں کا کیونکر ہوگا ۔ در حقیقت ان الفاظ کے وسیع مفہوم میں ایک دخلِ بے جا ہے۔ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ اور اس قسم کے اور بھی عالم مادی کے فنا کی طرف اشارہ ہے۔ البی کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس عالم کون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے۔ ہر ایک جو بنایا گیا تو ڑا جائے گا۔ اور ہر ایک ترکیب پاش پاش ہو جائے گی اور ہر ایک جسم متفرق اور ذرہ ذرہ ہو جائے گا ۔ ہر ایک جسم اور جسمانی پر عام فنا طاری ہوگی۔ اور قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفطار کے لفظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں۔ اُن سے ایسے معنے مراد نہیں ہیں جو کسی جسم صلب اور کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں اللہ جلشانہ فرماتا ہے۔ وَالسَّمواتُ مَطوِيتُ بِيَمِينِهِ ( الزمر : ٦٨ ) یعنی دنیا کے فنا کرنے کے وقت خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ سے لپیٹ لے گا۔ اب دیکھو کہ اگر شق السموات سے در حقیقت پھاڑ نا مراد لیا جائے تو مطوی کا لفظ اس سے مغائر اور منافی پڑے گا۔ کیونکہ اس میں پھاڑنے کا کہیں ذکر نہیں ۔ صرف لپیٹنے کا ذکر ہے۔ پھر ایک دوسری آیت ہے جو سورۃ الانبیاء جزے ا میں ہے اور وہ یہ ہے۔ يَوْمَ تَطْوِي السَّمَاءِ كَطَى السِّجِلِ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا ! إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ (الانبياء: ۱۰۵)