حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 178

حقائق الفرقان ۱۷۸ سُوْرَةُ الْإِنْشِقَاقِ لیتا ہے۔اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی۔انہیں قدموں پر پھر یہ عائم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا۔اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے۔اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چُھپ جائیں گے اور ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی اور ہر ایک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لے لے گی۔یہی سموات کا انشقاق انفطار اور مطویات ہونا ہے۔ع آسمان بار دنشاں آنوقت میگوئد ز میں لے یہ جملہ بھی حضرت صاحب کا ان آیات کی مختصر سی تفسیر ہے۔٣- وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ - ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخه ۱۳ / جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۴) ترجمہ۔اور اپنے رب کا حکم سنے اور یہی اس کو چاہئے۔تفسیر- آذنت۔اذن سے مشتق ہے۔جس کے معنے کسی بات کے سننے کے لئے کان لگائے رکھنا ، حکم کی تعمیل کرنا ہے۔محقت کے معنے یہ ہیں کہ آسمان کا حق ہے کہ وہ ایسا کرے۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ مورخه ۱۳ رجون ۱۹۱۲ صفحه ۳۱۵٬۳۱۴) ۵،۴ - وَإِذَا الْاَرْضُ مُدَّت - وَالْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ - ترجمہ۔اور جب زمین پھیلائی جائے۔اور جو کچھ اس میں ہے وہ باہر ڈال دے اور خالی ہو جائے۔تفسیر۔آسمان کا پھٹنا ، زمین کا کشادہ ہونا اور اپنے مافیھا کو اپنے اندر سے اُگل دینا۔ان واقعات کو قرآن کریم میں بلفظ دیگر یوں فرمایا ہے۔أَو لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا (الانبياء : ۳۱) یعنی زمینی اور آسمانی برکتیں بند تھیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے ساتھ ہی زمینی اور آسمانی برکتوں میں ترقیات ہونے لگیں۔آپ کے عہد مبارک میں ان دونوں کا رتق ٹوٹا اور زمینی و آسمانی ترقیات کا سمندر بہہ نکلا۔زمینی علوم و فنون جس قدر ترقی کر گئے اور کر رہے ہیں وہ ا آسمان نشان برسا رہا ہے اور زمین یہ کہہ رہی ہے کہ یہی وقت ہے۔