حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 177
حقائق الفرقان 122 سُوْرَةُ الْإِنْشِقَاقِ سُوْرَةُ الْإِنْشِقَاقِ مَكِيّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ انشقاق کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے نام سے جو بڑا رحمن اور رحیم ہے۔۲ - إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ - ترجمہ۔جب آسمان پھٹ جائے۔تفسیر۔آسمان میں جس قدر اجرام فلکی ہیں۔وہ سب سماء کے لفظ میں داخل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انشقاق وسماء و انفطار پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے۔وہ مختصراً یہ ہے کہ سماء سے مراد كُلُّ مَا فِي السَّمَاء ہے۔لطیف چیزیں بہ نسبت کثیف کے سریع الخرق ہوتی ہیں۔خواہ آسمان لطیف ہو یا کثیف۔الہی کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس عالم گون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے۔ہر ایک جو بنایا گیا ہے تو ڑا جائے گا۔قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفطار کے لفظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں۔اُن سے ایسے معنے مراد نہیں جو کسی جسم صلیب یا کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں۔جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَالسَّموتُ مَطوِيتَ بِيَمِينِهِ - (الزمر: ۲۸) اگر شق السموت سے در حقیقت پھاڑنا ہی مراد لی جاوے۔تو مظویات کا لفظ اس سے مغائر اور منافی پڑے گا۔دوسری جگہ فرمایا ہے۔يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيّ السّجِلِ لِلْكتب كَمَا بَدَ أَنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ (الانبياء : ۱۰۵) یعنی ہم آسمانوں اور زمین کو ایسا لپیٹ لیں گے۔جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لے اور آسمان اس کے دہنے ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہوں گے۔