حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 177

حقائق الفرقان ۱۷۷ سُورَةُ الْإِنْشِقَاقِ سُوْرَةُ الْإِنْشِقَاقِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ انشقاق کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ کے نام سے جو بڑا رحمن اور رحیم ہے۔ - إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ - ترجمہ ۔ جب آسمان پھٹ جائے۔ تفسیر آسمان میں جس : جس قدر اجرام فلکی ہیں ۔ وہ سب سماء ۔ اسماء کے لفظ میں داخل ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انشقاق و سماء و انفطار پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے۔ وہ مختصراً یہ ہے کہ سماء سے مراد كُلُّ مَا فِي السَّمَاءِ ہے۔ لطیف چیزیں بہ نسبت کثیف کے سریع الخرق ہوتی ہیں۔ خواہ آسمان لطیف ہو یا کثیف ۔ البی کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس عالم گون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے۔ ہر ایک جو بنایا گیا ہے تو گا۔ ڑا جائے گا ۔ قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفطار کے لفظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں ۔ اُن سے ایسے معنے مراد نہیں جو کسی جسم صلیب یا کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اللہ جل شانہ، فرماتا ہے وَ السَّماتُ مَطوِيتُ بِيَمِينِهِ - الزمر : ۲۸ ) اگر شق السموات سے در حقیقت پھاڑ نا ہی مراد لی جاوے۔ تو مطويات کا لفظ اس سے مغائر اور منافی پڑے گا۔ دوسری جگہ فرمایا ہے۔ يَوْمَ تَطْوِي السَّمَاءِ كَطَى السِّجِلِ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ (الانبياء : ۱۰۵) یعنی ہم آسمانوں اور زمین کو ایسا لپیٹ لیں گے ۔ جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لے اور آسمان اس کے رہنے ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہوں گے۔