حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 163
حقائق الفرقان ۱۶۳ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ پسپا ہو جائے گی ۔ دوم کچھ لوگ رو براہ ہو کر اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ باقی رہے سہے پر جھاڑو پھیر دی جائے گی ، آسمانی بلاؤں سے، زمینی بلاؤں سے ، جنگوں سے کفر کا صفایا ہو جاوے گا۔ یہی اس کے لئے تکنس ہے۔ سورج کی روشنی سے ستاروں کا ماند پڑ جانا بھی خنس ہے الجوار کے معنے سیدھے ہو کر چلنا ہے اور کنس کے معنے ڈوب جانے اور غروب ہو جانے کے ہیں ۔ لا نافیہ کی تو جہیہ سورۃ قیامت میں دیکھو۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۶ رجون ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۱۱) ۱۸ ۱۹ - وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ - بح إذا تنفس - ترجمہ اور اس رات کی جب وہ جاتی ہے۔ اور صبح کی جب وہ سانس لے۔ تفسیر۔ رات گئی اور صبح نمودار ہوئی ۔ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم فرماتے ہیں : وَ فِيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُوا كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعْ ۔ عَسْعَسَ اضداد سے ہے جس کے معنے آنے اور جانے کے ہیں ۔ یعنی کفر گیا اور اس کی جگہ اسلام نے لے لی ہے۔ عَسْعَسَ کے لفظ سے زمین کا گول ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف سے ظلمت روشنی پر چڑھی چلی آتی ہے تو ساتھ ہی دوسری طرف سے پیچھے سے روشنی ظلمت پر سوار ہو رہی ہے اور یہ ہو نہیں سکتا جب تک کہ زمین گول نہ مانا جاوے۔ ملتا کہ نہ مانا ہے ۔ تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ۔ (آل عمران : ( ۱۳ ) ۱ کے معنے بھی لیل کے تَعَسْعَسَ اور صبح کے تنفس کے قریب قریب ہیں یا عَسْعَسَ کے لفظ سے زمین کا گول ہونا یوں سمجھ لیجئے کہ جب رات ہماری طرف سے گئی اور ہم پر دن آیا تو زمین کے دوسری طرف والوں پر رات آئی اور اسی طرح سے اس کے بالعکس۔ ضمیمه اخبار بد قادیان مورخه ۶ رجون ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۱۱) لے اور ہمارے درمیان اللہ کے رسول ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اس وقت جب فجر طلوع ہوتی ہے۔ یہ دن ہیں ہم ان کو لوگوں میں نوبت بنوبت لاتے رہتے ہیں ۔