حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 162
حقائق الفرقان ۱۶۲ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ پہاڑوں کی جنبش ہے۔ہڈیوں کی چربی اور دودھ کا خشک ہونا تعطل عشار ہے۔افعال بہیمیہ وسبعیہ کے نتائج کا ظہور ہونا حشر وحوش ہے۔رطوبات بدن اور خون کا خشک ہونا، دریاؤں کا سوک جانا ہے۔کبھی یہ دریا موت کے وقت سوک جاتے ہیں۔اور کبھی بہادیئے جاتے ہیں۔سٹجرت کا لفظ دونوں معنوں پر مشتمل ہے)۔اور ملکات مکسو بہ کا باہم اجتماع یعنی ظلمانی کا ظلمانی سے اور نورانی کا نورانی سے تزویج نفوس ہے۔زندگی کے گراں قدر حصہ کو جو اس دارالحین میں جو طرح طرح کی مشقتوں کے نیچے دبایا گیا ہے۔مونُ ودَة فرمایا کہ اس کو ثواب کے مصرفوں میں خرچ کیا یا گناہ کے۔نامہ اعمال کا کھلنا نشر صحائف ہے۔آخرت کی جزا و سزا کا عیاں ہو جانا روح پر اکشاط سماء یعنی سماوی امور کا اس پر کھل جانا ہے۔جیسا کہ فرمایا۔فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ - (قَ : ٢٣) بعد الموت شدائد و مصائب کا دیکھنا سلگتے ہوئے جہنم کا دیکھنا ہے اور فرحت و نیک جز کا دیکھنا جنت کا نزدیک ہونا ہے۔آگے فرمایا۔عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ حضرات صوفیہ نے بھی ان بارہ حالتوں کو مراتب سلوک کے طے کرنے پر حمل کیا ہے۔غرض کہ اس قسم کے کلام ذوالمعارف جو پیشگوئیوں پر بھی مشتمل ہوں اور واقعات صحیحہ وحقہ پر بھی مشتمل ہوں۔کسی دیوانے کی زبان سے نہیں نکل سکتے۔جیسا کہ آگے اس کا ذکر آئے گا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۶ جون ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۱۱) ١٧،١٦ - فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْكُس - ترجمہ۔تو میں قسم کھاتا ہوں دن میں چھپنے والے پیچھے ہٹنے والے تاروں کی۔اور اپنی جگہ نظر آنے والے، سیدھے چلنے والے، آگے چلنے والوں ، ڈوب جانے والے تاروں کی۔تفسیر۔یہ کلام بھی کلام ذوالمعارف کے طور پر ہے۔منجملہ اس کے معارف کے ایک یہ ہے کہ قسمیہ طور پر فرمایا کہ کفر اب تین طرح سے ٹوٹے گا۔اول : ترقی کفر کی تھم جائے گی ، دبک جائے گی ، لے تو ہم نے اٹھا لیا تجھ سے تیرا پردہ تو آج تیری نظر بڑی تیز ہے۔