حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 161
حقائق الفرقان - ۱۲ - وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتُ ۔ ترجمہ ۔ اور جب آسمان کی کھال کھینچی جائے۔ ١۶١ سُورَةُ التَّكْوِيرِ تفسیر۔ سماء کے معنی بلندی کے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا۔ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ل (الحج:١٢) اور اکشاط کے معنے اکشاف یعنی کھول کر ننگا کر دینے کے ہیں ۔ أَكْشَطَ عَنْ ظَهْرِ الْفَرَسِ کے معنے ہیں گھوڑے کی پیٹھ پر سے زین اتار لو۔ معنی آیت ۔ نے آیت کے یہ ہیں کہ آسمانی اجرام اور علم نجوم کے متعلق بار یک در بار یک اسرار اور غوامض کھل پڑیں گے ۔ گویا بال کی کھال نکالی جاوے گی۔ اسٹرانومی کے علم والے جانتے ہیں کہ اس قرآنی پیشگوئی کا ظہور اس زمانہ میں کیسا کچھ ہو رہا ہے۔ اور آئندہ کہاں تک اس علم کی ترقی کی امید ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان ۶ رجون ۱۹۱۲ صفحه ۳۱۱٬۳۱۰) - ۱۳ ، ۱۴ - وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِرَتْ وَإِذَا الْجَنَّةُ ازْلِفَتْ - ترجمہ ۔ اور جب سخت آگ بھڑکائی جائے۔ اور جب بہشت قریب لائی جائے ۔ تفسير - تسعيراً : آگ روشن کرنا۔ اُزْلِفَت: کے معنے اذنِیت نزد یک کئے جانے کے ہیں جیسا کہ فرمایا۔ ليقر بونا إلى الله زُلفی - " (الزمر:۴) فی زمانہ اسباب تنعم اور مصائب و شدائد دونوں بہت بڑھ گئے ہیں ۔ ابتدا سورۃ سے بارہ آیتوں میں کلام ذو المعارف کئی کئی مضامین کو ساتھ لئے ہوئے بڑی بلاغت سے بیان ہوا ہے۔ قیامت کے احوال اور مبادی قیامت دونوں کو نہایت خوبی سے ادا فرمایا ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں کہ بعض اہلِ تاویل کی یہ رائے ہے کہ بارہ حوادث موت کے وقت جسے قیامت صغری کہتے ہیں ۔ پیش آتے ہیں۔ انسان کی روح بمنزلہ آفتاب کے ہے۔ جس کی شعاع سے اس کا بدن زندہ اور باقی رہتا ہے۔ روح کا نکلنا کیا ہے۔ گویا تکویر شمس ہے۔ ان کے حواس و قوی کا موت کے وقت بیکار ہونا انکدار نجوم ہے، اعضائے رئیسہ کا باطل ہونا، ان ا چاہئے آسمان تک ایک رسی تانے ۔ ۲ تا کہ وہ ہم کو اللہ کے نزدیک کردیں قرب اور مرتبہ میں ۔