حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 160
حقائق الفرقان ۱۶۰ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ حِفْظُهُمَا (البقرہ:۲۵۲) اسقاط حمل بھی زندہ در گور کرنا ہے۔آجکل دختر کشی بلکہ اسقاط حمل پر بھی قصاص کی سزائیں ملتی ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۶ / جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۰) انسان پیدا ہوالڑ کی یا لڑکا۔تمام بلاد میں علی العموم اور عرب میں بالخصوص رواج تھا۔لڑکیوں کو مار ڈالتے تھے۔اور لڑکیوں کی نسبت کثرت اولاد کو نا پسند کرتے تھے ایک یونانی حکیم کا قول ہے لنگڑے لڑکے قانونا مارے جاویں۔کثرت اولاد پر اسقاط جنین اور مانع حمل ادویہ پوچھنے والے بہت سے لوگ میرے پاس آئے۔انسانی قربانی کا جسے ہند میں ٹر بلی کہتے ہیں۔یہود میں عام رواج تھا۔عرب کے بت پرست بھی اس بلائے بد میں گرفتار تھے۔مگر حضور نے ان امراض کا علاج ایسا کیا جس کی نظیر نہیں۔اور یہی بات خرق عادت ہے کہ ان امراض کا نام و نشان ملک عرب میں نہ رہا۔دیکھو قرآن ان فتیح رسوم پر کیا فرماتا ہے إِذَا الْمَوْ دَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ - (التكوير : ١٠٩) ل b وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِيَّاكُمْ ۖ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطا گپیرا۔(بنی اسرائیل: ۳۲) وَ كَذلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرُدُوهُمْ وَ لِيَلْبِسُوا - عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ - (الانعام: ۱۳۸ ) ( فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اول صفحه ۴۲٬۴۱) ال - وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَت - ترجمہ۔اور جب کتابیں پھیلائی جائیں۔تفسیر۔جرائد ، رسالجات ، کتب وغیرہ کا انتشار فی زمانہ خوب ہورہا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۶ جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۰) لے جب بیٹی جیتی گاڑ دی کو پوچھے کس گناہ پر وہ ماری گئی۔ہے اور نہ مار ڈالو اپنی اولا دکو ڈر سے مفلسی کے ، ہم روزی دیتے ہیں، ان کو اور تم کو، بیشک ان کا مارنا بڑی چوک ہے۔۳۔اسی طرح بھلی دکھائی ہے بہت مشرکوں کو اولا د مارنی اُن کے شریکوں نے کہ ان کو ہلاک کریں اور ان کا دین خلط کریں۔