حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 7
حقائق الفرقان سُوْرَةُ نُوح مَكَّيَّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - سُوْرَةُ نُوح ہم سورہ نوح کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔إِنَّا اَرْسَلْنَا نُوحًا إِلى قَوْمِةٍ أَنْ انْذِرُ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُم دو عَذَابٌ اَلِيم - ترجمہ۔ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر کہ ڈرا اپنی قوم کو اس سے کہ آ جاوے ان پر ٹمیں دینے والا عذاب۔تفسیر۔ہوگا۔حضرت نوح علیہ السلام کا ملک دجلہ، نینوا اور فرات کے درمیان تھا۔عبرانی زبان میں نوح ( 45 ) آرام اور امن کو کہتے ہیں۔حضرت نوح کا زمانہ بڑے آرام کا تھا مگر لوگوں نے اس آرام کی قدر نہ کی۔اور اس کے حکموں کی نافرمانی کی اور شرارتوں پر کمر باندھی۔تب ان پر سخت عذاب آیا۔موجودہ زمانہ بھی حضرت نوح کے زمانہ کی طرح پرامن زمانہ ہے۔لوگ عیش وعشرت میں مصروف ہیں۔اس زمانہ میں بھی خداوند تعالیٰ نے ایک نوح بھیجا ہے۔اور اس نے ایک کشتی تیار کی ہے مبارک ہیں وہ جو اس میں سوار ہوئے۔حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ہماری موعظت کے واسطے کیا ہے۔دنیا میں انسان چاہتا ہے کہ اس کی لمبی عمر ہو۔اس واسطے طب کا علم ایجاد ہوا اور اسی حفاظت کے واسطے مکان ، لباس ، خوراک، مضبوط قلعه، فوجی سامان وغیرہ سب مہیا کئے جاتے ہیں۔بوڑھے بھی عبرانی