حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 158
حقائق الفرقان ۱۵۸ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ فائدہ اُٹھا ئیں گے۔لِمَن شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ۔اور آخر میں بتایا کہ استقامت اور ہدایت حاصل کرنے کے لئے ایک ہی گر اور اصل ہے کہ انسان اپنی مرضی کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے ماتحت کر دے۔(ترجمتہ القرآن) ۲ - إِذَا الشَّمْسُ كورت - ترجمہ۔جس وقت آفتاب لپیٹ لیا جائے۔تفسیر۔شمس کے معنے ضیاء الشمس یعنی سورج کی دھوپ کے بھی ہیں اور تکویر معنے لپیٹنے کے ہیں قرآن شریف سورة الفرقان رکوع ۵ میں ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلاً میں کفر کی ظلمت کو مٹانے والی چیز، نبی کا وجود ، قرآن شریف اور وحی الہی کو قرار دیا ہے۔جو بطور شمس کے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: می در خشم چوں قمر تابم چو قرص آفتاب کور چشم آنان که در انکارها افتاده اند وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَت - نیز جمعہ۔اور ستارے مدھم پڑ جائیں۔لے ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۶ جون ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۸ تا ۳۱۰) تفسیر۔نجوم کی روشنی سورج ہی سے ہے۔جب ضیاء الشمس ہی نہ رہا تو تکدر نجوم لازمی ہے۔نبی کے متبعین بھی نجوم ہی کی طرح ہوتے ہیں۔جن سے مسافروں کو راہ کا پتہ ملتا ہے۔۴- وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَت۔ترجمہ۔اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۶ جون ۱۹۱۲ء صفحه ۳۱۰) تفسیر۔جبال سے مراد سلاطین وغیرہ بڑی بڑی قومیں بھی ہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۶ / جون ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۱۰) ا میں چاند کی مانند چمک رہا ہوں نیز سورج کی مانند روشن ہوں وہ لوگ اندھے ہیں جو ابھی تک انکار کر رہے ہیں۔