حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 157
حقائق الفرقان ۱۵۷ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ سامان نہ ہو؟ پھر سفلی نظائر پیش کئے ہیں کہ رات کو دیکھو جب وہ جانے لگتی ہے تو صبح صادق ضرور نمودار ہوتی ہے۔یہی رنگ دنیا میں کلام الہی کے آنے کا ہے جب دنیا ظلمت فسق و فجور سے سیاہ ہوتی ہے اور بالکل تاریکی چھا جاتی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی صبح نمودار ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا کوئی برگزیده نور حق کی شمع لے کر آجاتا ہے۔اسی طرح پر قرآن کریم آیا دنیا کی حالت بگڑ گئی تھی اور کوئی صداقت کی روشنی نہ تھی اب قرآن کریم کے ظہور سے آفتاب صداقت طلوع ہوا ہے پھر بتایا ہے کہ قرآن مجید کیا ہے وہ ایک مکرم فرشتہ کے ذریعہ پہنچایا گیا۔اس میں بشارت اور پیشگوئی ہے کہ اس کو ماننے والے بھی مکرم ہوں گے اور پھر وہی لانے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک عالی پائے گاہ ہے اتنے بڑے محترم وجود کو اس کی پیام رسانی کے لئے مامور کیا تو اس سے اس کی عظمت کا اندازہ کرو وہ مسکین ہے۔قرآن مجید کو بھی دنیا میں تمکین عطا ہو گی اور جس پر نازل ہواوہ بزرگ عالی شان ہو گا۔مطاع ہوگا۔امین ہوگا۔اب غور کرو کیا یہ پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں یا نہیں؟ اور قرآن مجید کے ماننے والوں کو عزت ، وقار، تکریم ، تمکین ، مطاع اور امین ہونا نصیب ہوا یا نہیں ؟ ان واقعات کو دنیا کی تاریخ اپنی گود میں رکھتی ہے اور کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صاحب خلق عظیم ہیں۔ان کو جو اجر دیا گیا وہ غیر منقطع ہے۔اب دیکھ لو کہ یہ کیسی عظمت اور عزت ہے کہ ہر وقت دنیا کے ہر حصہ میں آپ پر اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ پڑھا جاتا ہے۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّم پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامیابیوں کی پیش گوئی اُفق مبین کے لفظ میں فرمائی اور بتایا کہ قرآن مجید میں بہت سی پیشگوئیاں ہیں۔بالآخر فر مایا کہ اے اہل مکہ ! قرآن مجید کو چھوڑ کر تم کونسا راہ اختیار کرتے ہو۔یہ تمہارے لئے اچھا نہیں دیکھو یہ قرآن مجید کل دنیا کا ہدایت نامہ ہے اور اپنے ماننے والوں کو دنیا میں تاریخی قوم بنادینے والا ہے۔اسے مت چھوڑو۔تم میں سے کون ہیں جو اس سے