حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 156 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 156

سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ حقائق الفرقان ہوئی ہے۔المختصر جب یہ نشانات پورے ہو جائیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا ابتلاء آئے گا کہ بہشت اور دوزخ قریب کئے جائیں گے اور ہر شخص کو اپنے اعمال پر نظر کرنے کا موقع ملے گا۔اللہ تعالیٰ نے ان تمام آیات اور نشانات کو آخری زمانہ سے جو ہمارا زمانہ ہے وابستہ کر کے پھر کلام الہی کے نزول پر بحث کی اور ان کی ضرورت کو اجرام سماوی کے مشاہدہ کو برنگ قسم پیش کر کے بتایا ہے۔چنانچہ فرمایا۔فَلا أُقْسِمُ بِالْخُنَّس۔یادر ہے کہ پانچ سیارہ یعنی زحل ، مشترکی ، مریح ، زہرہ اور عطارد ایسے ہیں جن کی عجیب حیرتناک چال ہے۔یہ بھی سیدھے چلتے ہیں اور اس لحاظ سے انہیں جوار کہتے ہیں۔جوار جمع ہے جاریہ کی۔یعنی ایک انداز پر چلنے والے اور کبھی اُلٹے چلنے لگتے ہیں یعنی جدہر سے آئے تھے پھر لوٹ کر اُدھر ہی آجاتے ہیں۔اس لحاظ سے انہیں خنس کہتے ہیں۔خنس جمع ہے خانس اور خانسہ کی۔معنی پیچھے ہٹ آنے والی چیزیں۔انہیں سیاروں کی تین یہ چالیں ہیں۔اُن کی چال ہمیشہ ایک طرح کی نہیں رہتی بلکہ پیٹتی رہتی ہے۔جیسے کوئی متحیر آدمی سیدھا جاتا ہے پھر لوٹ آتا ہے اسی لئے اُن کو خمسہ متحیرہ کہتے ہیں یا تو مشرق سے مغرب بترتیب بروج چل رہے تھے کہ حمل سے ثور اور ثور سے جوزا برج کو طے کر رہے تھے یا یکا یک حرکت بند ہوگئی اور پھر الٹے مشرق سے مغرب کو چلنے لگے۔پہلی حالت کو استقامت ، دوسری کو وقوف اور تیسری کو رجعت کہتے ہیں۔غرض ان سیاروں کی اس طرح کی چالیں ان کے تغیرات صریحاً اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اُن کا نظام ایک قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے۔جو علیم و حکیم ہے اور ایسے تصرفات پر قادر ہے پھر قیامت کے تغیرات اس کے آگے کیوں ناممکن ہیں اور یہ نظیر کلام الہی کے نزول پر اس لئے گواہ ہے کہ ان سیاروں کا وجود انسان کی جسمانی ضروریات کے تہیہ اور تکفل کے لئے ایک بڑا ذریعہ ہے چنانچہ جو لوگ اسٹرالوجی کے ماہر ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ سیاروں کا اثر زمین پر اور اہل زمین پر کس طرح پڑتا ہے اور وہ زمین کی پیداوار اور دوسری اشیاء پر خاص اثر ڈالتے ہیں تو جس خدا نے انسان کی فانی اور آنی ضرورتوں کے لئے اتنا بڑا سامان کیا ہے کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ابدی اور غیر فانی زندگی کے لئے کلام الہی کا