حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 154
حقائق الفرقان ۱۵۴ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ آنے والا ہے کہ پہاڑ اڑا دیئے جاویں گے۔یعنی فی الواقعہ پہاڑوں کو کھود کر ہموار راستے بنادیئے جاویں گے۔اور یا یہ کہ سلطنت ہائے عظمہ میں جنگ شروع ہو کر بعض سلطنتیں کمزور اور تباہ ہو جائیں گی اور اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی اور ان کا کچھ قدر و منزلت نہ رہے۔یادر ہے کہ عشار دس مہینے کی گا بن اونٹنی کو کہتے ہیں۔جو عربوں کی نگاہ میں بہت عزیز ہے۔یہ لفظ ظاہر کرتا ہے کہ ان آیات کا تعلق قرب قیامت کے زمانہ سے ہے اور اسی دنیا میں یہ واقعات ہونے والے ہیں کیونکہ قیامت میں حمل کہاں ہو گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانہ میں ایسی سواریاں اور بار برداری کے سامان پیدا ہو جائیں گے کہ اونٹنیوں کی ضرورت نہیں رہے گی چنانچہ ریل کی ایجاد نے اس پیش گوئی کو پورا کر دیا۔اس کے موافق حدیث صحیح میں آیات ہے۔وَيُتْرَكُ الْقَلَاصُ لے فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا - غرض انٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور ریل اور نئی نئی قسم کی سواریاں پیدا ہوں گی اور اب ظاہر ہے کہ یہ پیش گوئی کیسی صفائی سے پوری ہوگئی۔یہاں تک کہ حجاز ریلوے نے اور بھی خوبی سے اس کو پورا کر دیا۔اور ایک یہ بھی معنے ہیں کہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اونٹوں کی زکوۃ لینے والا کوئی نہ ہوگا اور یہ بھی اس زمانہ میں پورا ہو گیا کیونکہ آجکل اونٹوں کی زکوۃ کسی ملک میں نہیں حالانکہ زیادہ آمدنی اسی سے تھی اور پھر ایک یہ بھی معنے ہیں کہ وہ زمین عرب کی جن پر عشر کیا جاتا تھا معطل پڑی رہے گی۔غرض یہ پیش گوئی ہر رنگ میں پوری ہوگئی ہے۔اور پھر فرمایا۔وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَت۔اور جس وقت وحشی آدمیوں کے ساتھ اکٹھے کئے جاویں گے اور یا جس وقت وحشی اکٹھے کئے جاویں گے دونوں صورتوں میں یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی ہے۔اول الذکر صورت میں یہ مطلب ہے کہ وحشی قومیں تہذیب کی طرف رجوع کریں گی اور ان میں انسانیت اور تہذیب آجائے گی اور ارازل دنیوی مراتب اور عزت سے ممتاز ہو جاویں گے اور بباعث دنیوی علوم وفنون پھیلنے کے شریفوں اور رذیلوں میں کوئی فرق نہ رہے گا بلکہ کلید دولت اور عنان حکومت ان کے ہاتھ میں ہوگی یا یہ کہو کہ جو آج وحشی سمجھے جاتے ہیں اس وقت جمعیت کا موجب سمجھے جائیں لے اور جوان اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی اور ان پر سواری نہیں کی جائے گی۔