حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 153
حقائق الفرقان ۱۵۳ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ مَكِيَةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ تکویر کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔سورۃ تکویر بھی مکی سورہ ہے۔اس میں اولاً قیامت کے نشانات اور آخری زمانہ کی آیات کا ذکر کیا ہے۔پھر قرآن مجید کے نزول پر شواہد قدرت کو پیش کیا ہے۔اور اس کی سچائی کے دلائل دیئے ہیں۔قیامت کے ہولناک واقعات کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے۔اس میں جو بات بطریق قدر مشترک بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ نظام عالم درہم برہم ہو جائے گا۔قیامت میں ایسا ہی ہوگا۔ہم ظاہری الفاظ کے موافق اس پر ایمان لاتے ہیں مگر ذو المعارف قرآن مجید میں ان اُمور کے کچھ اور بھی حقائق ہیں جن کو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں وباللہ التوفیق۔سورہ تکویر کی ابتدائی آیات پیش گوئیاں ہیں۔اس سورۃ کی ابتدائی آیات میں آخری زمانہ کے متعلق جو مسیح موعود کا زمانہ کہلاتا ہے۔عظیم الشان پیش گوئیاں ہیں۔(۱) اِذَا الشَّمسُ كُورَت۔یعنی جس وقت سورج کی نوری صف لپیٹی جائے گی۔آفتاب نظام عالم میں ایک عظیم الشان طاقت ہے اور اگر وہ تاریک و تار ہو جاوے تو نظام عالم میں فساد عظیم برپا ہو جاوے۔اسی طرح جب حقیقی شریعت کے لانے والا دنیا میں نہیں ہوتا تو سخت تاریکی پھیل جاتی ہے پس اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں سخت ظلمت معصیت اور فسق و فجور کی تاریکی دنیا میں پھیل جائے گی۔(۲) وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَت اور علمائے ربانی کا نورا خلاص جاتا رہے گا یا یوں کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک دور کا زمانہ آئے گا۔جب کہ اصحاب کا وجود بھی نہ ہوگا۔حدیث میں صحابہ کو نجوم کہا گیا ہے ان کے زمانہ سے بھی بہت دور جا کر ایک ایسا وقت