حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 148 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 148

حقائق الفرقان ۱۴۸ سُوْرَةُ عَبَسَ طلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار ( جو تو جہ نہیں کرتے تھے ) کی تیوری چڑھائی اور نابینا سے ملتفت ہوئے۔اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ صداقت اور حق کا جو یاں خواہ کیسا ہی غریب اور محتاج کیوں نہ ہو۔وہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جاوے۔بمقابلہ ایک ریا کار اور خدا سے دور ، دولتمند اور سرکش متمول کے۔اس سورہ میں وَمَا يُدْرِيكَ کا خطاب عام ہے۔یعنی اے مخاطب تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ کیسا پاک دل اور پاکباز انسان ہے۔اس لئے اگر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کو بہ نظر استعجاب دیکھتا ہے کہ ایک قوم کے عمائد کی طرف سے توجہ پھیر کر ایک اندھے کی طرف مخاطب ہوئے۔یہ تیری خیالی تہذیب کے ماتحت قابل اعتراض ہے مگر اللہ تعالیٰ دلوں کو جانتا ہے اور اس کے نزدیک قابل قدر وہی ہیں جو خدا سے ڈرتے اور تزکیہ نفس کرتے ہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۷٬۳۰۶) ۲۔عَبَسَ وَتَوَتی۔ترجمہ۔تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔تفسیر۔عَبَسَ وَتَوَتی۔عَبَسَ سے تلھی تک دس آیتوں میں اس بات کو ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نکتہ نواز اور نکتہ گیر ہے۔اس کے حضور بہت احتیاط اور حذر چاہیے۔نزدیکاں را بیش بود حیرانی۔آنهارا کہ قریب تر آند خائف تر اندے کا مضمون ہے۔عَبَسَ وَتَوَٹی۔تیوری چڑھایا اور منہ پھیر لیا۔چونکہ شانِ نزول ایک خاص واقعہ کا پتہ مسیح حدیثیں دے رہی ہیں۔اس لئے کفار کی طرف سے منہ پھیر لینا اور ان کی طرف سے تیوڑی چڑھا کر ایک غریب کی طرف متوجہ ہونا یہ معنے بالعکس واقعہ کے ہیں۔اس لئے جمع بین الضدین صحیح نہیں معلوم ہوتا۔صحیح بات وہی ہے جو حدیث صحیح سے ثابت ہے اور نظیم کلام الہی اس کا مؤید ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۳۰ / مئی ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۷) بعض آدمی نیک بھی ہوتے ہیں۔مگر ان کے اندر ایک کبریائی ہوتی ہے جو بعد میں مشکل سے معلوم ہوتی ہے۔بہت احتیاط چاہیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امراء مکہ کو کچھ سمجھارہے تھے۔او پر سے ایک اندھا آ گیا۔اب وہ النازعات والی حالت نہ رہی یعنی توجہ ہٹ گئی۔کچھ ادھر کچھ اُدھر۔ا مقربین کو حیرانی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ قریب تر ہوتے ہیں اور زیادہ خوف رکھتے ہیں۔