حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 147
حقائق الفرقان ۱۴۷ سُوْرَةُ عَبَسَ عتاب کیا۔صحیح روایت میں ہے کہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کی بڑی دلداری کی اور اپنی چادر بچھا کر اسے بٹھایا۔یہ واقعہ آنحضرت کی صداقت اور قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کا زبر دست ثبوت ہے۔اگر چہ یہ کلام نہ ہوتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے فرستادہ اور سچے نبی نہ ہوتے۔تو یہ اس میں درج نہ ہوتا۔جو گویا عتاب کا رنگ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر خدا تعالیٰ کی کتاب اور وحی پر ایمان نہ رکھتے تو پھر اس کی تلافی نہ فرماتے۔یہ ایک بار یک بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رسالت پر خود ایمان لانا بھی ایک زبردست دلیل رسالت محمدیہ کے حق ہونے کی ہے۔بہر حال یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔قرآن مجید چونکہ اپنے اندر مستقل صداقتیں رکھتا ہے۔اس لئے ان آیات سے جو سبق ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے۔اول۔دین میں اخلاص اور عملی رنگ کا پیدا ہونا کسی رنگ و نسب پر موقوف نہیں ہے۔اس لئے ایسے معاملات میں ایک مبلغ اور واعظ کو کبھی یہ خصوصیت اختیار کرنی نہیں چاہیے کہ وہ طبقہ امراء کی وجہ سے ضعفاء اور غرباء کو چھوڑ دے۔اور ان کی طرف توجہ نہ کرے۔بلکہ ضعفاء اور غرباء زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اُن کی باتوں کی قدر کی جاوے اور انہیں محبت اور اخلاص سے دیکھا جاوے۔ان کی بات کو ہر گز رد کرنے کی کوشش نہ کی جاوے۔وہ نہایت نازک دل رکھنے والی قوم ہے۔اس وجہ سے اُن سے بے پروائی نہیں کرنی چاہیے کہ دل کے حالات کا اللہ ہی علیم ہے۔وہی خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت پانے والا ہے اور کون نہیں۔دوسری بات ان آیات سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ جولوگ بے پروائی کریں۔ان پر تبلیغ اور اتمام حجت کافی ہے۔ان کے پیچھے پڑنا ضروری نہیں ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ نبی کا کام کسی کو ہدایت یاب کر دینا نہیں ہے۔وہ لوگ غلطی کرتے ہیں جو کسی مامور ربانی سے ایسی مضحکہ خیز باتیں کرتے ہیں کہ آپ میری فطرت بدل دیں اور یہ کر دیں اور وہ کر دیں۔یہ خدائی فعل ہے اور اسی کو سزاوار ہے۔ایک اور بھی لطیف معنے ہیں اور وہ یہ کہ تیوری چڑھانے کا اثر ایک نابینا پر کیا ہوسکتا تھا۔پس