حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 146 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 146

حقائق الفرقان ۱۴۶ سُوْرَةُ عَبَسَ سُوْرَةُ عَبَسَ مَكِيَةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ہم سورۃ عبس کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔اس سورۃ کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔جس کا ذکر میں ابھی کروں گا۔اس سے پہلے اس امر کو یا درکھنا چاہیے کہ شانِ نزول سے ہمیشہ یہ مراد نہیں ہوتا کہ ان آیات کے نزول سے وہی امر مراد ہے جو شانِ نزول کے تحت میں بیان کیا جاتا ہے۔بلکہ اصل یہ ہے کہ وحی الہی کے نزول کے کچھ اسباب ہوتے ہیں۔ان میں سے اس واقعہ پر بھی وہ آیات چسپاں ہوتی ہیں ورنہ اگر کسی ایک واقعہ کو مخصوص کر لیں تو پھر قرآن مجید کی عظمت جو اس کے عام اور ابدی ہونے میں ہے کم ہو جاتی ہے۔غرض اس کی ابتدائی آیات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجمع قریش میں تبلیغ فرمارہے تھے۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس امر پر بدل حریص تھے کہ یہ لوگ ہدایت پا جاویں۔جیسا کہ قرآن مجید میں ایک موقع پر فرمایا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء : ٢) یعنی کیا تو اپنے آپ کو معرض ہلاکت میں ڈال دے گا۔اس خیال اور فکر سے کہ یہ مومن ہو جائیں آپ کے دل میں از حد تڑپ تھی اس امر کی کہ یہ لوگ ہدایت پائیں۔اسی اثناء میں عبد اللہ بن ام مکتوم جو نا بینا تھے دوڑتے ہوئے آئے اور آپ سے امر دین میں کچھ دریافت کرنا چاہا چونکہ وہ نابینا تھے۔انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ یہاں کن لوگوں کو حضرت خطاب کر رہے ہیں۔اور آداب الرسول کے موافق انہیں کیا طرز اختیار کرنا چاہیے۔وفور شوق اور اخلاص سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن ام مکتوم کا یہ فعل پسند نہ آیا۔اور اس کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوئے۔اور کافروں کی طرف منہ پھیر کر ان سے باتیں کرنے لگے۔آپ کے اس فعل پر اللہ تعالیٰ نے