حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 141
حقائق الفرقان ۱۴۱ سُوْرَةُ التَّزِعَتِ تفسیر۔اَلسَّاهِرَةُ- میدانِ حشر - میدانِ جنگ۔میدانِ بدر بھی اس کا مصداق تھا۔۱۹۔فَقُلْ هَلْ لَّكَ إِلَى أَنْ تَزَى - ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱ ار ا پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۵) ترجمہ۔اور اس سے کہہ دے کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جاوے۔تفسیر۔بڑی ہی نرمی اور ملائمت سے تبلیغ کو شروع کرنے کی تعلیم فرمائی ہے۔دوسری جگہ فَقُولا له قَوْلًا لينا (له : ۴۵) فرمایا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/اپریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۵) ۲۱، ۲۲ - فاريه الآيَةَ الكُبرى - فَكَذَّبَ وَعَطى - ترجمہ۔پھر موسیٰ نے فرعون کو بڑا نشان دکھلایا۔تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔آيَةُ اس تفسیر۔آیة الکبری۔عصا تھا جس کے تابع پہلی آرئیت کے وقت ید بیضا بھی تھا۔اس لئے ایک ہی چیز کا ذکر فرمایا۔ورنہ دوسری جگہ فرمایا ہے۔وَلَقَدْ آرَيْنَهُ ايْتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ آئی کے (طه: ۵۷) (ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/ اپریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۵) ۲۵ - فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى - ترجمہ۔اور کہا کہ میں تمہارا بہت بڑا رب ہوں۔تفسیر - انا ربکم الاعلی۔میں تمہارا بڑا رب ہوں۔( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۱۵۲) ۲۷ - إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشَى - جمہ۔بے شک اس واقعہ میں عبرت ہے جن کو ڈر ہے۔تفسیر آیہ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ موسیٰ کے بیان میں مثیل موسی علیہما الصلواۃ والسلام کے لئے عبرت ہے۔عبرت کہتے ہیں ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ کی طرف پے لے جانے کو۔مغبر کشتی کو کہتے ہیں۔اس لئے کہ وہ اس طرف سے اُس طرف کو عبور کرنے کا آلہ ہے۔لے تو تم دونوں اس سے نرم بات کہنا۔ہے اور ہم نے فرعون کو دکھا دیں اپنی سب نشانیاں پھر اس نے جھٹلایا اور انکار کیا۔