حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 137 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 137

حقائق الفرقان ۱۳۷ سُورَةُ النَّبَا ہوتی ہے کہ اس بیچارہ کو بولنے تک کی جرأت نہیں۔علاوہ اس کے رحمن کے معنے رحم بلا مبادلہ کر نیوالا ہے۔صفت رحمانیت اور کفارہ دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رحمانی صفت میں تناسخ کا بھی رد ہے۔جو رحم بلا مبادلہ کرتا ہے۔اس کو مختلف جونوں میں کتا بلا بنا کر اپنا گھر پورا کر لینے کی کیا ضرورت؟ قرآن کریم میں روح کا لفظ کلام اللہ کے لئے آیا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/ اپریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۴) ا انَّا اَنْذَرُنَكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَهُ وَ يَقُولُ الْكَفِرُ يُلَيتَنِي كُنْتُ تُربَّا - ترجمہ۔بے شک ہم نے تم کو ڈرا دیا ہے قریب ہی آنے والے عذاب سے۔جس دن آدمی دیکھ لے گا جو اس آنے والے کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہو جاتا۔تفسیر ابتداء سورہ میں سَيَعْلَمُونَ دوبار کہہ کر قریب ہی آنے والے عذاب کی طرف توجہ دلایا تھا۔خاتمہ سورہ بھی عذاب قریب کا ذکر فرمایا۔جو یوم بدر اور فتح مکہ کے دن واقع ہوا۔اور یہ عذاب کی پیشگوئیاں دنیا میں صادق ہو کر قیامت اور اس کے عذاب کے لئے ثبوت ٹھہریں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه اا ا پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۴)