حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 135

حقائق الفرقان -۲۴ - لبِدِينَ فِيهَا احْقَابًا - ترجمہ۔اس میں صدیوں ٹھہریں گے۔۱۳۵ سُورَةُ النَّبَا تفسیر۔احقابا۔اس سے ظاہر ہے کہ جہنم غیر منقطع نہیں جیسا جنت۔وہ ایک تادیب گاہ ہے جہاں انسان کی روحانی بیماریوں کا علاج ہو کر اسے بہشتی زندگی بسر کرنے کے قابل بنادیا ہے۔بہشت ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/اپریل ۱۹۱۲ ، صفحه ۳۰۴) عطاء غیر مجذوذ ہے۔۳۲ - إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا - ترجمہ۔بے شک دوزخ گھات میں لگی ہوئی ہے۔تفسیر۔پاس ہونے والے۔کامیاب اور بامراد ہونے والے متقین ہی ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱ ار ا پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۴) ۳۴- وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا - ترجمہ۔اس میں صدیوں ٹھہریں گے۔تفسیر۔كَوَاعِبَ جمع كَعْبَةٌ کی ہے۔كَعْبَین پیر کے دونوں ٹخنوں کی بڑی کو کہتے ہیں گواعِبُ سے مراد وہ نو خیز، نو عمر عورتیں ہیں جن کے پستان ٹخنوں کی طرح اُبھر نے پر ہوں۔( محاورہ ہے۔تكَعْبَتِ الْجَارِيَةُ وَكَعَبَتِ الْجَارِيَةُ ) - ضمیمه اخبار بدر قادیان مورخه ۱۱/ اپریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۴) اتراب۔اس لفظ کا اصل ترب اور تراب سے ہے جس سے مطلب خاکساری اور انکساری ہے۔طاغین کی سزا کے بالمقابل اتراب یعنی منکسر المزاج عورتوں سے جزاء متقین خوب مناسبت رکھتی ہے۔اثراب کے لغت کی حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل القرب کے اس بیان سے بھی خوب واضح ہوتی ہے۔جو ازالہ اوہام طبع اول صفحہ ۷۵۰ اورصفحہ ۳۱۲ میں مذکور ہے۔جہاں آپ نے تسخیر بالنظر کے عمل کو بیان فرمایا ہے۔اس عمل میں معمول ( جس کو انگریزی میں سجبکٹ کہتے