حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 130
حقائق الفرقان ۱۳۰ سُوْرَةُ النَّبَا سے برفیں پگھلیں ، چشمیں جاری ہوں، ندیاں نکلیں۔پھر ان کے سیل پر اس سطح سے جس میں ریگ ہوتی ہے۔پانی مصفی ہو کر کنوؤں میں آتا ہے۔پھر اس سے کھیت سرسبز ہوتے ہیں۔یہ بھی ایک سلسلہ علاوہ رحمت کے سلسلے کے ہے۔جو بارانِ رحمت الہیہ سے ہے۔جس کا ذکر اس کلمہ طیبہ میں ہے۔ذکراس وَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ - (البقره: ۲۳) اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوئے کہ ہم نے زمین پر پہاڑ رکھے کہ چکر کھاتے ہیں ساتھ تمہارے۔یہ الہی طاقت کا ذکر ہے کہ اس نے اتنے بڑے مستحکم مضبوط پہاڑوں کو بھی زمین کے ساتھ چکر دے رکھا ہے اور نظام ارضی میں کوئی خلل نہیں آتا۔اب کوئی انصاف کرے کہ کن معنی پر اعتراض کی جگہ ہے۔ہم نے تصدیق براہین احمدیہ کی جلد دوئم میں اس مضمون پر بسط سے کلام کیا تھا۔اس مسودے سے بھی یہاں مختصراً کچھ نقل کرتے ہیں۔اور وہ یہ ہے۔مکذب براہین احمدیہ کے اعتراض کا تیسرا حصہ یہ تھا۔اہلِ اسلام کے نزدیک پہاڑ بمنزلہ میخوں کے زمین پر ٹھونکے گئے۔یہ خام خیالی ہے۔الجواب : خام خیالی کا دعوی کرنا اور ثبوت نہ دینا۔یہ بھی معترض کی خام خیالی ہے۔و انفی في الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِ دَابَّةٍ - (لقمان:۱۱) اور آیت کریمہ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا۔ایک نہایت سچی فلسفی ہے اور اس سچی فلسفی پر جدیدہ علوم اور حال کے مشاہدات گواہی دیتے ہیں۔اور انہی مشاہدات سے بھی ہم گزشتہ دیرینہ حوادثات کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔طبقات الارض کی تحقیقات اور مشاہدات سے اچھی طرح ثابت ہوسکتا ہے کہ اس زمین کا ثبات وقرار اضطرابات اور زلازل سے خالق السموات والارض نے تکوین جبال اور خلق کو ہسار سے ہی فرمایا ہے اور زمین کے تپ لرزہ کو اس علیم وقدیر نے تکوین جبال سے تسکین دی ہے۔چنانچہ علم طبقات الارض میں تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ زمین ابتدا میں ایک آتشین گیس تھا۔جس کی بالائی سطح پر دھواں اور دخان تھا۔ا اور برسایا بادل سے پانی پھر اُگا ئیں اس کے ذریعہ سے کھانے کی چیزیں تمہارے لئے۔۲۔اور رکھ دیئے زمین میں بھاری بوجھ کہ وہ تم کو لے کر نہ جھک پڑے اور پھیلا دیئے زمین میں سب طرح کے جاندار۔۳۔اور پہاڑوں کو میخیں۔