حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 129 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 129

حقائق الفرقان ۱۲۹ سُورَةُ النَّبَا کر لیا ہے کہ اگر زمین پر پہاڑ نہ ہوتے تو وہ جنبش کرتی رہتی۔اس میں زمین کی پیدائش اور بناوٹ کی طرف اشارہ ہے۔اور ان فوائد کی طرف توجہ دلائی ہے۔جو پہاڑوں سے اہلِ زمین کو حاصل ہیں۔چنانچہ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔وَ اَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ (لقمان: ۱۱) رکھے ہیں زمین میں پہاڑتا کہ وہ تمہیں کھانا دیویں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ صفحه ۳۰۲) حضرت خلیفتہ المسح الاول رضی اللہ عنہ نے اپنی تصنیف ”نورالدین میں پہاڑوں کے بارے ص میں مزید تحریر فرمایا ہے۔اعتراض۔زمین پر پہاڑ اس لئے رکھے کہ وہ آدمیوں کے بوجھ سے ہل نہ جاوے؟ الجواب۔قرآن کریم میں اس مضمون کی آیت تو کوئی نہیں۔البتہ یہ آیت ہے۔و الفى في الْأَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَرا وَسُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔(النحل: ۱۲) اس آیت میں ان تمید یکم کا لفظ ہے۔جس کے معنے تمہیں بتاتے ہیں۔اور دوسری آیت اسی مضمون کی یہ ہے۔وَ جَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيدَ بِهِمْ وَ جَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَهُمْ يَهْتَدُونَ (الانبیاء:۳۲) دونوں میں تمید کا لفظ ہے۔جو جہالت کے سبب سے دشمن اسلام کی سمجھ میں نہیں آیا۔سنو! لغت عرب میں ہے۔مَادَنِي يَميدُني۔أطعمني (مفردات القرآن للراغب) اور مید کے معنے ہلنا۔دیکھو۔مَادَ يَميدُ مَيْدًا و مَيْدَانًا تَحَرَّكَ (قاموس اللغة مَادَهُمْ أَصَابَهُمْ دَوَارُ (قاموس) وَالْمَائِدَةُ الدَّائِرَةُ مِنَ الْأَرْضِ ( قاموس ) ان معنوں کے لحاظ سے جو مادَنِي يَمیدانی کے کئے گئے ہیں۔اس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ رکھے زمین میں پہاڑ اس لئے کہ کھانا دیں تمہیں۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے کہ ان میں ے اور رکھ دیئے زمین میں پہاڑتا کہ زمین زلزلہ کھائے تمہارے ساتھ اور ندیاں اور راستے بنائے تا کہ تم منزل مقصود کو پہنچ جاؤ۔ہے اور ہم نے پیدا کئے زمین میں پہاڑ ایسا نہ ہو کہ زمین لوگوں کو لے کر جھک پڑے اور اس میں کھلے کھلے رستے تاکہ لوگ راہ پا جائیں۔