حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 125
حقائق الفرقان ۱۲۵ سُوْرَةُ الْمُرْسَلت یہ ہے۔اَلَم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَانَا - اَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا المرسلت : ۲۷۲۶)۔ہم نے زمین کو مردوں اور زندوں دونوں کو اپنی طرف جذب کر نیوالی بنایا۔اس کی کشش ثقل کسی کو اپنے اندر اور اپنے اوپر لینے اور رکھنے کے سوا چھوڑتی ہی نہیں۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۲۶) ۱- انْطَلِقُوا إِلى ظِلَّ ذِي ثَلَثِ شُعَب - ترجمہ۔تین شاخوں والے سایہ کی طرف چلو۔تفسیر - ظلَّ ذِي خَلتِ شعب کسی سایہ کے تین ہی فائدے ہو سکتے ہیں ا۔اوپر کی تپش سے بچائے ۲۔گردو پیش کی لپٹ سے بچائے ۳۔شرارے اور چنگاریوں سے امن حاصل ہو۔دوزخ کے دھوئیں کا سایہ۔اس میں یہ صفتیں کہاں؟ قرآن شریف کی باہمی آیات میں کچھ نہ کچھ ربط مطالب کے لحاظ سے ضرور رہتا ہے۔دجالی فتنوں کا ثبوت قرآن شریف کی اس آیت سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لیا ہے۔جو سورۃ الدخان میں ہے۔لے يوم تأتي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ - (الدخان: ۱) عیسائیوں کی نجات کا اعتقاد باپ بیٹا۔روح القدس۔ان تینوں کے معجون مرکب پر ہے۔ان تینوں کا جزو اعظم بیٹا ہے۔جو زمین کی اس کشش پر جس کا ذکر ماقبل آیت میں ہے ، غالب آ کر زندہ آسمان پر چڑھ گیا ( خدا کا بیٹا جو ہوا۔اس کو گراوی ٹیشن کی کیا پر واہ۔) آیت باب میں اسی معجون مرکب کو ثَلث شُعَبِ سے تعبیر کیا ہے۔ربط آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات کے لئے نہ باپ کا سایہ ہوگا۔نہ بیٹے کا۔نہ روح القدس کا۔ہوں گے اس وقت سبھی موجود۔مگر جس سایہ کی طرف جاویں گے آرام یا نجات نہ ہوگی۔اللہ اَعْلَمُ وَ عِلمه اتمی جزا سزا اور اعمال میں مناسبت کا ہونا ضروری ہے جو ان دو آیتوں سے ثابت ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ صفحه ۳۰۱) -۴۰ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدُ فَكِيدُونِ - ترجمہ۔پس اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو تم مجھ سے کر گز رو ( مجھ پر چلا کر دیکھو )۔اے جس دن آسمان لے آوے ایک ظاہر دھواں۔3 GRAVITATION POWER سے اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے اور اس کا علم سب سے زیادہ کامل ہے۔