حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 124

حقائق الفرقان ۱۲۴ سُوْرَةُ الْمُرْسَلت تفسیر۔کیا نہ بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی زندوں کی اور مردوں کی۔کفاٹا کے معنے سمیٹنے والی اپنی طرف کھینچنے والی۔ایک حدیث میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے۔اَكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ انْتِشَارِ الظُّلَامِ فَإِنَّ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لِلشَّيْطَنِ خَطْفَةً یعنی سمیٹ لو اپنے بچوں کو شام کے اندھیرے کے وقت۔کیونکہ اس وقت شیطان جھپٹا مارلیا کرتا ہے۔یوں بھی دیکھا گیا ہے کہ شام کے اندھیرے کے قریب اکثر مویشی وغیرہ بڑی سرعت اور تیزی کے ساتھ چرا گاہوں سے دوڑتے ہوئے مکانوں کی طرف آتے ہیں۔ایسے وقت میں بچوں کا درمیان آپڑنا ضر ر اٹھانے کا باعث ہوتا ہے۔والدین یا سر پرستوں کو ہدایت فرمائی کہ ایسے وقت میں بچوں کو اپنی طرف کھینچ لو۔باہر نہ نکلنے دو۔اجرام موذیہ کا انتشار بھی اسی وقت ہوتا ہے۔غرض کہ کفاتا کے معنے کھینچنے اور سمیٹنے کے ہیں۔خواہ مُردہ ہوں یا زندہ ، تر ہو یا خشک۔نباتات ، جمادات ، حیوانات ، سب کو زمین اپنی قوت جاذبہ اور قوت کشش سے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔مسیح کی موت حیات کا مسئلہ اس آیت سے بخوبی حل ہوتا ہے۔آیت شریفہ بتلا رہی ہے کہ مسیح ہوں یا اور کوئی دوسرا جاندار ، مُردہ ہو یا زندہ، کسی کو بھی زمین نہیں چھوڑتی کہ اس سے جدا ہو کر نکل جاویں اگر پرندے اڑتے ہیں۔تو تھوڑے عرصہ بعد پھر زمین ہی کی کشش سے اس کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔اگر پتھر اوپر کو پھینکا جاوے۔تو زمین ہی کی کشش ہے کہ اس کو نیچے لا گراتی ہے۔زمین کی اس قوت کشش کو سائنس کی تحقیقات میں گراوٹیشن پاور کہتے ہیں۔جس کو اس آیت میں کفا تا کہا ہے۔كفانا گفت لغت سے نکلا ہے نہ کہ کفن یکفی سے کفی یکفی کے معنے کا فی ہونا۔اور اکفات کے معنی اپنی قوت کشش سے چیزوں کو اپنی طرف کھینچنا اور سمیٹنا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۱) عیسٰی علیہ السلام آسمان پر نہیں اُڑے۔قرآن کریم اس کی تکذیب کرتا ہے۔قرآن ایک کلی قاعدہ ہر ایک ذی حیات کے لئے باندھتا ہے۔اور اس قاعدہ کلیہ سے کسی کو مستے نہیں کرتا۔اس کے خلاف اعتقاد رکھنے والا قرآن کریم میں بتائی ہوئی خدا کی سنت کا مکذب اور بے ایمان ہے۔وہ آیت