حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 123
حقائق الفرقان ۱۲۳ سُوْرَةُ الْمُرْسَلت مبدل ہو جاتی ہیں جیسے مرسلات ، عصفات نفس کو اس کا مطالعہ کراؤ۔شیخ ابن عربی لکھتے ہیں کہ ایک صوفی تھے۔وہ حافظ تھے اور قرآن شریف کو دیکھ کر بڑے غور سے پڑھتے۔ہر حرف پر انگلی رکھتے جاتے۔اور اتنی اونچی آواز سے پڑھتے کہ دوسرا آدمی سن سکے۔ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ کو تو قرآن شریف خوب آتا ہے۔پھر آپ کیوں اس اہتمام سے پڑھتے ہیں؟ فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میری زبان ، کان ، آنکھ ، ہاتھ سب خدا کی کتاب کی خدمت کریں۔ایک حضرت شاہ فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی گزرے ہیں۔ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ بہشت میں جائیں گے تو کیا کام کریں گے۔فرمایا۔ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے پاس حوریں آئیں۔ہم نے ان سے کہا۔جاؤ بیبیو۔قرآن پڑھو۔قرآن خدا کی کلام اور اس کی کتاب ہے۔جس قدر کوئی اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھے گا۔اسی قدر جناب الہی اس کو پکارے گا۔تو اس کی بات فورا سنی جائے گی۔۲۱۔اَلَمْ نَخْلُقُكُمْ مِنْ مَاءٍ مَّهِينٍ - ترجمہ۔کیا ہم نے تم کو ذلیل پانی سے پیدا نہیں کیا۔(حیات نور صفحه ۵۵۳) تفسیر۔مِنْ مَاءٍ مھین۔حقیر پانی سے۔تھوڑے ناقدرے پانی سے۔نبی ، ولی ، رسول، بادشاہ ، امیر، فقیر۔سب ہی اس ماء مہین سے بنے ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۰۱) ۲۲۔فَجَعَلْنَهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ - ترجمہ۔پھر ہم نے اس کو محفوظ جگہ میں۔تفسیر قرار نمکین۔ٹھہرنے کی جگہ محفوظ جگہ۔عورت کے رحم میں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۱) ۲ ، ۲ - اَلَم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا - أَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا - ترجمہ۔کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کے واسطے ساتھ ملانے والی نہیں بنایا ( کافی نہیں بنایا)۔