حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 122

حقائق الفرقان ۱۲۲ سُوْرَةُ الْمُرْسَلت کہ اس کو اسلام کی خبر بھی نہیں۔اور اگر خبر ہے تو عامل نہیں۔میں تم کو بہت مرتبہ قرآن سناتا ہوں۔بعض کہتے ہیں کہ ہزاروں مرتبہ توسن چکے ہیں۔کہاں تک سنیں ؟ عذرا أو تن را۔ہم تو اس واسطے تم کو قرآن سناتے ہیں کہ کوئی عذر باقی نہ رہے اور تم میں سے کوئی تو ڈرے! فَإِذَا النُّجُومُ۔پھر ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دنیا سے مٹ جاتے ہیں۔پھر تو کوئی قرآن سنانے والا بھی نہیں ملتا۔زمینداروں، دکانداروں کو فرصت کہاں۔میں نے صرف ایک شہر ایسا دیکھا ہے کہ جمعہ کے دن بازاروں کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور سب جمعہ میں حاضر ہو جاتے ہیں۔کوئی مسلمان بازار میں نہیں پھر سکتا۔اور وہ شہر مدینہ ہے۔مکہ میں بھی ایسا نہیں۔یہ بھی چالیس پچاس برس کی بات ہے۔اب کی کیا خبر ہے۔دکاندار ، حرفہ والے ملازم اپنے کاموں کی وجہ سے رہ جاتے ہیں۔عورتیں اور بچے جاتے ہی نہیں۔آجکل لوگوں نے کتا ہیں لکھی ہیں کہ جمعہ کوئی ضروری چیز نہیں۔عالمگیر نے ایک ایسی کتاب لکھوائی تھی۔اس میں عجیب عجیب ڈھکو نسلے ادھر اُدھر کے بھر دیئے ہیں اس کے سب لوگوں میں سستی ہوئی اور اب تو صاف صاف جمعہ کی مخالفت میں کتا ہیں چھپنے لگیں۔کوئی لکھتا ہے کہ قربانی کی ضرورت نہیں۔ایک اخبار نے لکھا تھا کہ حج میں روپے خرچ کرنے کی بجائے کسی انجمن میں چندہ دے دے۔ایک شخص نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے۔اور روزوں کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر امیر ہو تو کھانا دے دے۔غریب کو تو ویسے بھی معاف ہی ہے۔ایک شخص لکھتا ہے کہ وَذَرُوا الْبَيْعَ (الجمعہ :۱۰) ہرقسم کا بیچ چھوڑ دو۔پس ہر قسم کی بیع ہونی چاہیے۔جہاں ہر قسم کی بیج نہ ہو وہاں جمعہ ضروری نہیں۔میں نے کہا کہ ہر قسم کی بیع تو لندن میں بھی نہیں ہوئی۔إِذَا النُّجُومُ۔علماء یوں تباہ ہو رہے ہیں۔قرآن کے حقائق یوں کھل جائیں گے۔اور بڑی بڑی سلطنتیں بھی قائم ہو جائیں گی۔ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن سمجھ لیا ہے۔دیکھو خوشی کی خبر میں غم سے یوں