حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 121
حقائق الفرقان ۱۲۱ سُوْرَةُ الْمُرْسَلت ہے۔میں نے ایسی آندھیاں دیکھی ہیں کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔بہت سے جانور دریاؤں میں گر جاتے ہیں بہت سے پرند درختوں سے گر جاتے ہیں اور دریا وغیرہ کے درخت جو سرو کی قسم سے وو ہیں اس طرح گرتے اور اُڑتے ہیں کہ نیچے بیٹھے ہوئے آدمی کا نام ونشان بھی باقی نہیں رہتا۔” و النشرات نَشْرًا۔ایسی بھی ہوائیں ہوتی ہیں کہ پانی کو اٹھاتی ہیں۔بادل لاتی ہیں۔پھر ایسی ہوائیں بھی ہوتی ہیں فالفرقتِ فَرْقًا۔وہ فرق کر دیتی ہیں۔بادلوں کو اس طرح اڑا کر لے جاتی ہیں جیسے روئی کا گالا۔خدائے تعالیٰ کا کلام بھی انسان کے کان میں ہوا ہی کے ذریعہ پہنچتا ہے۔ہوا کی لہریں بھی دماغ کے پردوں کو متحرک کر دیتی ہیں۔وہ ہوائیں المُرسلت ہوتی ہیں اور وہی آوازیں بھی کان میں پہنچاتی ہیں اور وہ آوازیں۔کبھی خوشی کی ہوتی ہیں کبھی رنج کی ہوتی ہیں جو عاصفات کا رنگ پیدا کر دیتی ہیں۔مؤمن کی شان میں ایک ایسا لطیف فقرہ ہے۔دنیا میں کوئی دکھ کو پسند نہیں کرتا۔قرآن شریف میں ہے فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔(البقرہ:۳۹) اگر تم مومن ہو اور سکھ چاہتے ہو تو اس کتاب کی اتباع کرو۔اب دور دراز سے خبریں آتی ہیں کہ مسلمانوں کو یوں شکست ہوئی۔یوں تباہ ہوئے۔ایک شخص کا میرے پاس خط آیا۔وہ لکھتا ہے کہ مجھ کو دہریہ نام کا مسلمان ملا۔وہ کہنے لگا۔خدا تعالیٰ تو اب مسلمانوں کا دشمن ہو گیا ہے۔لہذا ہم اسلام سے ڈرتے ہیں کہ کہیں خدا ہمارے پیچھے بھی نہ پڑ جائے۔اس لئے ہم تو اسلام کو چھوڑتے ہیں۔بھلا اس سے کوئی پوچھے کہ اس نے مسلمانوں جیسے کیسے کام کئے۔مسلمان اپنے اعمال کو ٹھیک کرتے اور پھر دیکھتے۔فَالْمُلْقِيتِ ذِکرا۔ہواؤں میں وہ ہوائیں بھی ہیں کہ تم کو یاد دلانے کے لئے چلاتے ہیں یعنی لوگوں کے مونہہ سے تم کو سنواتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو۔ایک بڑا حصہ مسلمانوں کا ایسا ہے ا پھر جب جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت نامے آتے رہیں گے اس اُس وقت جو جو شخص اُن میرے ہدایت ناموں کی پیروی کرے گا اُسے کسی قسم کا نہ آئندہ خوف ہوگا اور نہ گزشتہ ہی عمل کے لئے وہ نمگین ہوگا۔