حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 120
حقائق الفرقان ۱۲۰ سُوْرَةُ الْمُرْسَلت ہو گیا۔سکھوں کا فیصلہ باوانا نک علیہ الرحمتہ کے ذریعہ سے ہو گیا۔وَيْلٌ يَوْمَيذٍ لِلمُكَذِّبِينَ۔جہاں قرآن شریف میں تکرار لفظی کے ساتھ کئی بار اس جملہ کو دہرایا ہے۔وہاں خصوصیت کے ساتھ مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے متعلق پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ الفاظ مطابقت کے لئے اشارہ کر رہے ہیں جس میں مسیح موعود کے کا فرگش دم کی نسبت فرمایا ہے کہ لَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ أَنْ تَجِدَرِيحٌ نَفْسِهِ إِلَّا مَاتَ وَ نَفْسُهُ يَنْتَهِيَ حَيْثُ يَنْتَهِيَ طَرَفَةً یہ مکذبین کے لئے ویل کا دن اور یوم الفصل ثبوت ہے اس بات کا کہ اس کے بعد یوم القیامۃ جزا سزا کا بڑا دن بھی آنیوالا ہے۔حدیث شریف میں جو مسیح موعود کے انفاس کا ذکر ہے اس سے مراد آپ کے دلائل قاطعہ اور پیشین گوئیاں ہیں۔چنانچہ انفاس کو اس شعر میں ملفوظات نبوی کہا ہے۔اهل الْحَدِيثِ هُمْ أَصْحَبُ النَّبِي وَإِنْ لَّمْ يَصْحَبُوا نَفْسَهُ أَنْفَاسَهُ صَحِبُوا اس آیت شریفہ کو اس سورۃ میں بار بار لا کر یہ یقین دلایا ہے کہ منکرین و مکذبین رسالت ہرگز ہرگز فوز وفلاح کے وارث نہ ہوں گے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ء صفحه ۳۰۱٬۳۰۰) اللہ اس سورۃ شریف میں ایک عجیب نظارہ دکھلاتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ سوچو۔بہار کی لطیف ہوا کیسی فرحت بخش ہوتی ہے۔ایک نوجوان اس وقت سڑک پر چلتا ہو تو اس کی زبان سے بھی ایک فقرہ ضرور نکل جاتا ہے۔وَالْمُرْسَلتِ عُرفا وہ ہوا میں جو دل کو خوش کر نیوالی ہوتی ہیں تم جانتے ہو کہ بعض وقت ہوا کا ایک لطیف جھونکا چلتا ہے کہ اس لطیف جھونکے سے دل خوش ہو جاتا ہے۔پھر وہی ہوا آہستہ آہستہ چلتی اور روح دروں کو خوش کر نیوالی یکدم ایسی بڑھ جاتی ہے کہ ایک تیز آندھی بن جاتی ا ترجمہ از مرتب: مسیح موعود کے انفاس سے کوئی کافر زندہ نہیں بچ سکے گا اور اس کے انفاس وہاں تک پہنچیں گے جہاں تک اس کی نظر جائے گی۔۲ اہل حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اگر چہ انہیں آپ کی ذات کی صحبت میسر نہیں آئی مگر وہ آپ کے انفاس یعنی ملفوظات کے اصحاب ہیں۔