حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 113
حقائق الفرقان ۱۱۳ سُوْرَةُ الدَّهْرِ الجواب۔خلوا کا ترجمہ زیور دیئے گئے۔يُحَلَّون کا ترجمہ ہے زیور دیئے جائیں گے۔یہ بھی غریب عرب کو ایک وعدہ تھا اور ز بر دست پیشگوئی ہے۔چنانچہ ایک شخص سراقہ بن مالک بن جعشم المد بھی نامی کو حضرت نبی کریم نے اس کے خالی ہاتھ دیکھ کر ان پر بال بہت تھے اور ہاتھ نہایت پتلے تھے ) فرمایا۔كاني بك قد لبست سواری کشری۔میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے کسری کے کنگن پہنائے گئے۔مدتوں کے بعد جب خدا تعالیٰ کے وعدہ کے دن آئے اور خدا کے برگزیدہ بندوں نے آریوں کے بھائی ایرانیوں کے ملک کو فتح کیا اور فتوحات ایران کا مال سونا، یاقوت ، زبرجد اور لؤلؤ بکثرت آیا اور اس میں خاندان شاہی کے زیورات آئے تو حضرت عمرؓ نے خاص کسری شہنشاہ کے کنگن اس عربی مدلجی کو پہنا دیئے اس لئے کہ وہ پیشگوئی پوری ہو جو نبی کریم صلی اینم نے کی تھی اور جو قرآن کریم میں مفصل مذکور ہے۔دیکھو امام شافعی کی روایت ازالۃ الخفا صفحہ ۱۳۰ جلد ۲ اب ہم اسے رؤیا کی کتابوں سے حل کرتے ہیں۔سَوَارٌ - اِنْ كَانَ اَسْوُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَهُوَ رَجُلٌ صَالِحُ لِلسَّعْيِ فِي الْخَيْرَاتِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى وَحُلُوا أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ فَإِنْ سُوَرَتْ يَدُ السُّلْطَانِ فَهُوَ فَتْحٌ يُفْتَحُ عَلَى يَدَيْهِ مَعَ ذِكْرٍ وَصَوْتٍ وَإِنْ كَانَ لَهُ أَعْدَاء فَإِنَّ اللَّهَ يُعِيْنُهُ- (منتخب الكلام جلدا ) اگر کسی کو رویا میں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں تو وہ شخص صالح آدمی اور اس قابل ہوتا ہے کہ بڑے بڑے نیک کام اس کے ہاتھ سے نکلیں اور یہ معنی مستنبط کئے گئے ہیں خدا تعالیٰ کے قول حلوا اساور من فضہ سے۔اگر سلطان کے ہاتھ پر کنگن پہنائے جائیں تو اس کے معنی ہوں گے کہ اسے فتوحات نصیب ہوں گی اور اس کا آوازہ و شہرت دنیا میں مشتہر اور شائع ہوگی اور اگر اس کے دشمن ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر اسے فتح مند کرے گا۔واقعات عالم اور ہمارے نبی کریم صلای ایتم کی لائف پر نگاہ کر کے دیکھ لو کہ یہ ساری باتیں کس طرح احسن طریق سے پوری ہو ئیں اور بعد الموت اس سے اتم اکمل طور پر پوری ہوں گی۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۶۹،۱۶۸)