حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 106
حقائق الفرقان 1+4 سُوْرَةُ الدَّهْرِ سفید رنگ ہے۔ان کا منشاء یہ ہے کہ جو سفید رنگ نظر آیا وہ سارے کمالات کا جامع ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۹) ۱۸ - وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا - ترجمہ۔اور ان کو وہاں ایسے جام پلائے جائیں گے جس میں ملونی سونٹھ کی ہوگی۔زنجبیل دو لفظوں سے مرکب ہے۔زَنَا اور جَبَل سے۔زَنَا لغت میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل بمعنی پہاڑ۔سونٹھ کی گرمی انسان میں بڑی قوت پیدا کرتی ہے۔جب تک کہ عاشقانہ گرمی سالک راہ محبت کے دل میں نہ ہو وہ مشکلات کی بلند گھاٹیوں کو طے نہیں کر سکتا۔جب یہ زنجبیل عشق اور محبت کی شراب پی لیتا ہے تو خدا کی راہ میں عملی قوت کا ایسا حیرت ناک اثر دکھاتا ہے کہ دوسرا ہرگز دل سے ایسی جانفشانیاں نہیں دکھلا سکتا۔اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے سالک کی جزا کاسئہ وصال رکھا ہے۔جس کے مزاج کی طرف زنجبیل کے لفظ سے اشارہ کرتے ہوئے جزاء و فَاقًا کی موافقت کو ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۹) بتلایا ہے۔۱۹۔عَيْنَا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا - ترجمہ۔ایک چشمہ ہے بہشت میں جس کا نام سلسبیل ہے۔تفسیر تُسَى سَلْسَبِيلا - سَلْسَبِیل میں سل۔سبیل کی طرف اشارہ کیا ہے۔یعنی پوچھ راستہ۔دنیا میں عشق اور محبت کا زنجبیلی کا سہ اپنے مرشد کے ہاتھ سے جب سالک پی لیتا ہے تو اس میں خصوصیت کے ساتھ اپنے محبوب حقیقی تک پہنچنے کی ایک تڑپ پیدا ہو جاتی ہے۔پھر وہ راہ طریقہ کے پوچھنے اور اس پر قدم مارنے میں عار نہیں کرتا۔خواہ کیسی ہی دشوار گھاٹیاں راستے میں حائل ہوں۔ہمارے موجودہ امام علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک فرمودہ جو سلسبیل کے لفظ سے بہت ہی مناسبت رکھتا ہے یہ ہے۔ابنِ مریم ہوا کرے کوئی مرے دُکھ کی دوا کرے کوئی لے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخه ۱۱ را پریل ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۹) لے یہ شعر غالب کا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔