حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 104
حقائق الفرقان ۱۰۴ سُوْرَةُ الدَّهْرِ کو خدا ہی دے دیتا اگر دینا منظور ہوتا۔قرآن کریم کے دل سورہ یسین میں ایسا لکھا ہے وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَنْ لَوْ يَشَاءَ اللهِ أَطْعَمَه۔۔۔آج کل چونکہ قحط ہو رہا ہے انسان اس نصیحت کو یادر کھے اور دوسرے بھوکوں کی خبر لینے کو بقدر وسعت تیار رہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے یتیموں ، مسکینوں اور پابند بلا کوکھا نادیتار ہے۔مگر صرف اللہ کے لئے دے۔یہ تو جسمانی کھانا ہے۔روحانی کھانا ، ایمان کی باتیں ، رضاء الہی اور قرب کی باتیں یہاں تک کہ مکالمہ الہیہ تک پہنچا دینا اسی رنگ میں رنگین ہوتا ہے۔یہ بھی طعام ہے۔وہ جسم کی غذا ہے یہ روح کی غذا منشاء یہ ہو کہ اس لئے کھانا پہنچاتے ہیں کہ اِنَّا نَخَافُ مِنْ زَبْنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَبْطَرِيرًا کہ ہم اپنے رب سے ایک دن سے جو عبوس اور قمطریر ہے ڈرتے ہیں عبوس تنگی کو کہتے ہیں قمطر پر دراز یعنی قیامت کا دن تنگی کا ہوگا اور لمبا ہو گا۔بھوکوں کی مدد کرنے سے خدا تعالیٰ قحط کی تنگی اور درازی سے بھی نجات دیدیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے فَوَقَهُمُ اللهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُمُ نَضْرَةٌ وَ سُرُورا خدا تعالیٰ اس دن کے شر سے بچالیتا ہے اور یہ بچانا بھی سرور اور تازگی سے ہوتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یا درکھو آج کل کے ایام میں مسکینوں اور بھوکوں کی مدد کرنے سے قحط سالی کے ایام تنگیوں سے بچ جاؤ گے۔خدا تعالیٰ مجھ کو او تم کو توفیق دے کہ جس طرح ظاہری عزتوں کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ابدالآباد کی عزت اور راحت کی بھی کوشش کریں۔آمین الحکم جلد ۳ نمبر ۴۱ مورخه ۱۷/ نومبر ۱۸۹۹ صفحه ۱تا۴) مِسْكِيناً وَ يَتِيما و اسیرا۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قیدی کو اصحاب میں سے کسی کے سپرد کرتے تو آقا کو حکماً فرماتے آحسن الیہ اس کے ساتھ نیک سلوک کر یو۔یہ بھی ایک روایت میں آیا ہے کہ غَرِيمُكَ آسِيرُكَ فَأَحْسِنُ إلى اسيرك تيرا مقروض تیرا قیدی ہے اس کے ساتھ نیک لے حق چھپانے والے منکر ایمانداروں سے کہتے ہیں کیا ہم ایسے کو کھلائیں جس کو اللہ چاہتا تو خودکھلا دیتا کچھ شک نہیں کہ تم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔