حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 99
حقائق الفرقان ۹۹ سُوْرَةُ الدَّهْرِ کے لئے سب سے ضروری بات صفات الہی کا علم حاصل کرنا اور ان کے موافق اپنا عمل درآمد کرنا ہے۔اگر یہ اعتقاد بھی کمزور ہو تو ایک اور دوسرا مسئلہ ہے جس پر اعتقاد کرنے سے انسان خدا تعالیٰ کی فرماں برداری میں ترقی کر سکتا ہے۔وہ جزا و سزا کا اعتقاد ہے۔یعنی افعال اور ان کے نتائج کا علم مثلاً یہ کام کروں گا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ برے نتائج پر غور کر کے انسان ، ہاں سعید الفطرت انسان برے کاموں سے جو ان نتائج بد کا موجب ہیں پر ہیز کریگا اور اعمال صالحہ بجالانے کی کوشش یہ کہ دونوں اعتقاد نیکیوں کا اصل الاصول اور جڑیں یعنی اول خدا تعالیٰ کی صفات اور محامد کا اعتقاد اور علم تا کہ قرب الہی سے فائدہ اٹھاوے اور ر ذائل کو چھوڑ کر فضائل حاصل کرے۔دوسرا یہ کہ ہر فعل ایک نتیجہ کا موجب ہوتا ہے اگر بد افعال کا مرتکب ہوگا تو نتیجہ بد ہوگا۔ہر انسان فطرتا سکھ چاہتا ہے اور سکھ کے وسائل اور اسباب سے بے خبری کی وجہ سے افعالِ بد کے ارتکاب میں سکھ تلاش کرتا ہے مگر وہاں سکھ کہاں؟ اس لئے ضروری ہے کہ افعال اور ان کے نتائج کا علم پیدا کرے اور یہی وہ اصل ہے جس کو اسلام نے جزاوسزا کے لفظوں سے تعبیر کیا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان تجربہ کار اور واقف کار لوگوں کے بتلائے ہوئے مجرب نسخے آرام و صحت کے لئے چاہتا ہے اگر کوئی ناواقف اور ناتجربہ کار بتلائے تو تأمل کرتا ہے۔پس نبوت حقہ نے جو راہ دکھلائی ہے وہ تیرہ سو برس سے تجربہ میں آچکی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راحت کے جو سامان بتلائے ہیں ان کا امتحان کرنا آسان ہے۔غور کرو اور بلند نظری سے کام لو!! عرب کو کوئی فخر حاصل نہ تھا کس سے ہوا؟ اسی نسخہ سے !! کیا عرب میں تفرقہ نہ تھا پھر کس سے دور ہوا ؟ ہاں اسی راہ سے!! کیا عرب نابودگی کی حالت میں نہ تھے پھر یہ حالت کس نے دور کی؟ ماننا پڑے گا کہ اسی نبوّت حقہ نے !!! عرب جاہل تھے۔وحشی تھے۔خدا سے دور تھے۔محکوم نہ تھے تو حاکم بھی نہ تھے۔مگر جب انہوں نے قرآن کریم کا شفا بخش نسخہ استعمال کیا تو وہی جاہل دنیا کے استاد اور معلم بنے وہی وحشی متمدن دنیا کے پیش رو اور تہذیب و شائستگی کے چشمے کہلائے۔وہ خدا سے دور کہلانے والے