حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 98
حقائق الفرقان ۹۸ سُوْرَةُ الدَّهْرِ خود جناب الہی ابرار کی تشریح فرماتے ہیں سورۃ البقرہ میں فرما یاليْسَ الْبِرِّآن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ الى الآیه ابرار کون ہوتے ہیں؟ اول : جن کے اعتقاد صیح ہوں کیونکہ اعمال صالحہ دلی ارادوں پر موقوف ہیں دیکھو ایک اونٹ کی ناک میں نکیل ڈالے ہوئے ایک بچہ بھی اسے جہاں چاہے جدھر لے جائے لئے جاتا ہے۔لیکن اگر کنویں میں گرانا چاہیں تو خواہ دس آدمی بھی مل کر اس کی تشکیل کو کھینچیں ممکن نہیں وہ قدم اٹھا جاوے۔ایک حیوان مطلق بھی اپنے دلی ارادے اور اعتقاد کے خلاف کرنا نہیں چاہتا وہ سمجھتا ہے کہ قدم اٹھایا اور ہلاک ہوا۔پھر انسان اور سمجھدار انسان کب اعتقاد صحیحہ رکھتا ہوا اعمال بد کی طرف قدم اٹھا سکتا ہے اس لئے ابرار کے لئے پہلے ضروری چیز یہی ہے کہ اعتقاد صحیحہ ہوں اور وہ پکی طرح پر اس کے دل میں جاگزیں ہوں۔اگر منافقانہ طور پر مانتا ہے تو کاہل ہوگا۔حالانکہ مومن ہوشیار اور چالاک ہوتا ہے ان اعتقادات صحیحہ میں سے پہلا اور ضروری عقیدہ خدا تعالیٰ کا ماننا ہے جو تمام نیکیوں کی جڑ اور تمام خوبیوں کا چشمہ ہے۔دنیا میں ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ جب تک دوسرے سے مناسبت پیدا نہ ہو اس کی طاقتوں اور فضلوں سے برخوردار نہیں ہوسکتا۔جب انسان قرب الہی چاہتا ہے اور اس کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ اس کے خاص فضل اور رحمتوں سے بہرہ ور اور برخوردار ہو جائے تو اُسے ضروری ہے کہ ان باتوں کو چھوڑ دے جو خدا تعالیٰ میں نہیں یا جو اس کی پسندیدہ نہیں ہیں۔جس قدر عظمت الہی دل میں ہوگی اسی قدر فرماں برداری کے خیالات پیدا ہوں گے اور ذائل کو چھوڑ کر فضائل کی طرف دوڑے گا۔کیا ایک اعلیٰ علوم کا ماہر جاہل سے تعلق رکھ سکتا ہے۔یا ایک ظالم طبع انسان کے ساتھ ایک عادل مل کر رہ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔پس خدا تعالیٰ کی برکتوں سے برخوردار ہونے